ک100 کروڑ ٹیکوں کا جشن

   

Ferty9 Clinic

اپنی ہی کرنی کا پھل ہے نیکیاں، رسوائیاں
آپ کے پیچھے چلیں گی آپ کی پرچھائیاں
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میںجملہ 100 افراد کو ٹیکے دیدئے گئے ہیں۔ حکومت اور بی جے پی کی جانب سے اس کا جشن منایا جا رہا ہے ۔ یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت نے ایک بڑا کارنامہ انجام دیا ہے اور 100 کروڑ افراد کو ٹیکے دیدئے گئے ہیں۔ ہندوستان کی آبادی 135 کروڑ کی ہے اور اس میں اگر 100 افراد کو ٹیکے دیدئے گئے ہیں تو یہ کافی بہتر تناسب کہا جاسکتا ہے تاہم جب تناسب کی بات کی جاتی ہے تو صرف 21 فیصد کو دونوں خوراک دینے کی بات سامنے آتی ہے اور تقریبا 50 فیصد کو پہلی خوراک دی جانے کا انکشاف ہوتا ہے ۔ ایسے میں اعداد و شمار سے الجھن پیدا ہوتی ہے ۔ ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ ہندوستان میں ابھی تک 18 سال سے کم عمر کے افراد کو ٹیکہ نہیں دیا گیا ہے اور نہ ہی اس کی ایجاد ہوئی ہے ۔ اگر ان کی آبادی کا شمار کیا جائے تو پھر سرکاری اعداد و شمار سے مزید الجھن ہوسکتی ہے کیونکہ 18 سال سے کم عمر کے افراد کی تعداد بھی ہندوستان میں کروڑوں میں ہے ۔ اگر اس عمر کے افراد کو شمار نہ کیا جائے تو پھر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریبا تمام آبادی کو کورونا کا ٹیکہ دیا جاچکا ہے ۔ جو صورتحال ہے اور آزادانہ ذرائع سے جو اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں وہ اس کی نفی کر رہے ہیں۔ بعض گوشوں کا استدلال ہے کہ چونکہ مرکزی حکومت کورونا بحران میں عوام کی مدد کرنے سے قاصر رہی تھی اور دو وقت کی کورونا لہرنے ملک میں بڑی حد تک تباہی مچائی ہے اور ان دونوں مواقع پر حکومت عوام کی کوئی مدد نہیں کرسکی ہے اس کے باوجود اب ٹیکہ اندازی کا جشن منایا جا رہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے کورونا وباء سے ملک میں اپنی جان گنوانے والے 4.3 لاکھ افراد کا کوئی تذکرہ نہیں کیا جا رہا ہے جو محض آکسیجن دستیاب نہ ہونے ‘ ادویات کی قلت اور دواخانوں میں بستروں کی کمی کی وجہ سے بھی فوت ہوئے ہیں۔ حکومت کو ان مرنے والوں کو بھی یاد کرنے کی ضرورت تھی جنہیں فراموش کردیا گیا ہے ۔ کئی گھر اجڑ گئے ہیں اور کئی خواتین بیوہ ہوگئی ہیں۔ کئی گھروں میں کمائی کا ذریعہ ختم ہوگیا ہے ۔ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں بچے یتیم ہوگئے ہیں۔
ٹیکہ اندازی کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ حکومت ٹیکہ اندازی کا خرچ خود عوام سے حاصل کر رہی ہے ۔ کئی مرکزی وزراء نے بھی یہ بیان دیا ہے کہ کورونا بحران کے دوران غریب عوام کو جو راشن دیا گیا ہے اور اب جو ملک بھر میں عوام کو مفت ٹیکے دئے جا رہے ہیں اس کا خرچ پٹرول اور ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتوں میںاضافہ کرتے ہوئے حاصل کیا جا رہا ہے ۔ اس اعتبار سے بھی حکومت کو 100 کروڑ افراد کو ٹیکہ دینے کا جشن منانے کا کوئی حق نہیں پہونچتا ۔ اگر واقعی اس تعداد میں ٹیکہ اندازی ہوئی بھی ہے تب بھی اس کا سہرا ملک کے غریب عوام کے سر ہی جاتا ہے جو نت نئے انداز سے ان پر عائد ہونے والے محاصل اور ٹیکسیس کا بوجھ برداشت کرتے ہوئے حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندرمودی نے 100 کروڑ ٹیکے دئے جانے کے موقع پر قوم سے خطاب کیا اور انہوں نے حکومت کے کارنامے کے طور پر اس کو پیش کیا لیکن انہوں نے ان غریب عوام سے اظہار تشکر نہیں کیا جنہوں نے پٹرول و ڈیزل مہینگے داموں پر خریدتے ہوئے ٹیکوں کا خرچ برداشت کیا ہے ۔ نریندر مودی حکومت عوام کے پیسے سے عوام کو ٹیکہ دیتے ہوئے اس کا سہرا خود اپنے سر باند ھ رہی ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا ۔ حکومت نے نہ کورونا بحران کے دوران عوام کی کوئی مدد کی ہے اور نہ ہی ٹیکہ اندازی کیلئے خود اپنے خزانہ سے کچھ خرچ کیا ہے ۔ سارا خرچ عوام کی جیبوں سے ہی حاصل کیا گیا ہے اس کے باوجود خود جشن مناتے ہوئے غریب عوام کے ساتھ مذاق کر رہی ہے ۔
عوام کی صحت کا خیال رکھنا اور نگہداشت صحت و علاج کی سہولیات فراہم کرنا حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ مودی حکومت ہر معاملے میں عوام کی جیب سے پیسے اینٹھنے کی روایت پر عمل شروع کرچکی ہے ۔ پرائیوٹ لمیٹیڈ کمپنی کی طرح ہر سہولت اور ہر خدمت کا خرچ عوام ہی سے وصول کیا جا رہا ہے ۔ عوام پر مسلسل بوجھ عائد کرتے ہوئے ان کے گھریلو بجٹ کو متاثر کیا جا رہا ہے اور عوامی رقومات سے جو کچھ بھی کام کئے جا رہے ہیں حکومت ان کا سہرا اپنے سر باند ھ رہی ہے ۔ 100 کروڑ ٹیکوں کا جشن ملک کے غریب عوام کے نام ہی ہونا چاہئے نہ کہ حکومت یا کسی لیڈر کے نام ہونا چاہئے ۔