آر ٹی پی سی آر رپورٹ یا پازیٹیو رپورٹ کے بغیر داخلہ کی شرط پر عدم عمل، مریض بے یار و مددگار
حیدرآباد: ریاست تلنگانہ میں محکمہ صحت کی جانب سے گاندھی ہاسپٹل اور تلنگانہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس میں مریضوں کو شریک کروانے کیلئے آرٹی پی سی آر رپورٹ یا کورونا وائرس پازیٹیورپورٹ کے لزوم کی برخواستگی کا اعلان کیا گیا ہے لیکن ریاستی حکومت کے محکمہ صحت کے ان احکامات کے باوجود شہریوں کو تلنگانہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس میں داخلہ کیلئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ ٹمس میں داخلہ کیلئے مریض کی کورونا وائرس مثبت پائے جانے کی رپورٹ لازمی ہے اور اس کے بغیر مریضوں کو ٹمس میں داخلہ نہیں دیا جا رہاہے اور جو مریض خانگی دواخانوں اور کارپوریٹ دواخانوں سے مایوس ہوکر بستر نہ ملنے پر تلنگانہ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کا رخ کر رہے ہیں انہیں اندر داخل ہونے بھی نہیں دیا جا رہاہے اور انہیں باب الداخلہ سے ہی واپس کیا جانے لگا ہے۔ ریاستی حکومت اور محکمہ صحت کی جانب سے سرکاری دواخانو ںمیں کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے متعلق بار بار کہا جا رہاہے کہ شہر حیدرآباد کے جن سرکاری دواخانوں میں کورونا وائرس کا علاج کیا جا رہاہے ان دواخانو ںمیں کورونا وائر س سے متاثر ہونے کی رپورٹ کی ضرورت نہیں ہے اور جن مریضوں میں علامات پائے جانے کے علاوہ سانس کی تکلیف کی شکایات موصول ہورہی ہیں ان کو فوری شریک دواخانہ کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے لیکن حکومت اور محکمہ صحت کے دعوؤں کے سلسلہ میں دواخانہ کے انتظامیہ سے دریافت کرنے پر کہا جا رہاہے کہ دواخانہ میں موجود سہولتوں کی بنیاد پر ہی مریضوں کو داخلہ دیا جا سکتا ہے اور دواخانہ کا انتظامیہ بھی اس بات سے واقف ہے کہ سرکاری دواخانو ںمیں جہاں کورونا وائرس کا علاج کیا جا رہاہے ان دواخانو ںمیں شریک ہونے کے لئے کسی رپورٹ کی ضرورت نہیں ہے تاہم محکمہ صحت کی جانب سے دواخانہ کے انتظامیہ کو کوئی واضح احکامات جاری نہیں کئے گئے ہیں اسی لئے دواخانہ کے انتظامیہ کی جانب سے رپورٹ نہ رکھنے والے مریضوں کو شریک کرنے سے احتیاط کیا جارہا ہے ۔ خانگی دواخانو ںمیں بستر نہ ہونے اور سرکاری دواخانوں میں بغیر رپورٹ کے داخلہ نہ دیئے جانے کے فیصلہ نے مریضوں کے لئے کئی مشکلات پیدا کردی ہیں اور ان مشکلات سے نجات کے لئے محکمہ صحت کی جانب سے فوری طور پر سرکاری دواخانوں میں داخلہ کے لئے رہنمایانہ خطوط جاری کرنے چاہئے۔