تعطل کی کیفیت ہنوز برقرار ، گاندھی ہاسپٹل پر مریضوں کا دباؤ کم کرنے ڈاکٹرس کا مطالبہ
حیدرآباد ۔12۔ جون (سیاست نیوز) گاندھی ہاسپٹل میں جونیئر ڈاکٹرس کی ہڑتال کے تعلق سے متضاد دعوے کئے جا رہے ہیں۔ ایک جانب جونئیر ڈاکٹرس کی ایک بڑی تعداد اپنی ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہے تو دوسری جانب کچھ ڈاکٹرس کے ڈیوٹی پر رجوع ہونے کا دعوی بھی کیا جا رہا ہے ۔ اس طرح ہڑتال کے سلسلہ میں پیدا شدہ تعطل ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ وزیر صحت ای راجندر کی جانب سے ڈاکٹرس کے مطالبات پر ہمدردانہ غور کے تیقن کے باوجود جونیئر ڈاکٹرس نے اپنی ہڑتال جاری رکھی ہے۔ حکومت ہڑتال کی یکسوئی کا دعویٰ کر رہی ہے جبکہ جونیئر ڈاکٹرس نے کہا کہ وہ ابھی ہڑتال پر ہیں۔ انہوں نے حکومت کو ہڑتال کی نوٹس دی ہے۔ جونیئر ڈاکٹرس گاندھی ہاسپٹل میں کورونا مریضوں کی تعداد میں کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں حکومت کے واضح تیقن تک ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ منگل کی رات سے جونیئر ڈاکٹرس ہڑتال پر ہیں اور وہ ہاسپٹل کے روبرو سڑک پر اپنے مطالبات کی تکمیل کیلئے احتجاج کر رہے ہیں ۔ ہاسپٹل میں ایک مریض کے رشتہ داروں کی جانب سے ڈاکٹر پر حملہ کے بعد ہڑتال کا آغاز ہوا ۔ ہاسپٹل میں ڈاکٹرس پر حملہ کے واقعات میں اضافہ کے پیش نظر جونیئر ڈاکٹرس نے خصوصی سیکوریٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ وزیر صحت ای راجندر نے تیقن دیا تھا کہ وہ جونیئر ڈاکٹرس کے مطالبات کو چیف منسٹر تک پہنچائیں گے لیکن ہڑتالی ڈاکٹرس کو حکومت کی جانب سے واضح اعلان کا انتظار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گاندھی ہاسپٹل میں ڈاکٹرس پر بوجھ کم کرنے اضلاع سے مریضوں کی منتقلی روک دی جائے ۔ 200 سے زائد جونیئر ڈاکٹرس کی ہڑتال سے خدمات متاثر ہوئی ہیں۔
ہاسپٹل میں شریک مریضوں کے رشتہ دار پریشان ہیں اور مریضوں کی جانب سے رشتہ داروں کو بہتر علاج کیلئے پیامات روانہ کئے جارہے ہیں۔ کئی مریضوں کے رشتہ داروں نے سوشیل میڈیا پر پیامات اپ لوڈ کئے جس میں گاندھی ہاسپٹل کی ابتر صورتحال کا ذکر کیا گیا ۔ وزیر صحت نے ڈاکٹرس کی حفاظت کیلئے اسپیشل پروٹیکشن پولیس تعینات کرنے کا تیقن دیا ہے ۔ جونیئر ڈاکٹرس گاندھی ہاسپٹل سے مریضوں کو گچی باؤلی منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وزیر صحت نے ڈاکٹرس کی مخلوعہ جائیداوں پر تقررات کا بھی تیقن دیا ہے۔ اسی دوران سرکاری ذرائع نے بتایا کہ حکومت متبادل انتظامات کی تیاری کر رہی ہے ۔ دیگر ہاسپٹلس میں برسر خدمت یا پھر ریٹائرڈ ڈاکٹرس کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہے۔ تاہم یہ فیصلہ ہڑتال کی نوعیت پر رہے گا۔ حکومت نے ہنگامی حالات کیلئے 25000 ڈاکٹرس اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی فہرست تیار کی ہے جنہیں کسی بھی وقت خدمات کیلئے طلب کیا جا سکتا ہے ۔ اس ساری صورتحال میں کچھ ڈاکٹرس کے ڈیوٹی پر رجوع ہونے کے بھی دعوے کئے جا رہے ہیں۔