گاندھی ہاسپٹل میں زخمیوں سے ملاقات کی کوشش پر ہنمنت راؤ گرفتار

   

پولیس کے سخت انتظامات ، کانگریس قائد کی عہدیداروں سے بحث و تکرار
حیدرآباد۔17۔ جون (سیاست نیوز) آرٹی رکروٹمنٹ کے نئے طریقہ کار کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس فائرنگ میں زخمی نوجوانوں سے ملاقات کیلئے گاندھی ہاسپٹل پہنچنے پر پولیس نے سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ کو حراست میں لے لیا ۔ فائرنگ اور تشدد کی اطلاع ملنے پر ہنمنت راؤ پارٹی کارکنوں کے ہمراہ گاندھی ہاسپٹل پہنچے تاکہ زخمیوں کی عیادت کریں۔ گاندھی ہاسپٹل کے مین گیٹ کو بند کردیا گیا تھا اور پولیس نے کسی بھی سیاسی قائد کو داخلہ کی اجازت نہیں دی۔ ہنمنت راؤ نے پولیس کے رویہ پر ناراضگی جتائی اور میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے کہ پولیس عہدیداروں نے انہیں زبردستی اٹھاکر اپنی گاڑی میں بٹھالیا۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ وہ خاموشی سے کسی احتجاج کے بغیر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا رویہ سیاسی قائدین کے ساتھ روڈی شیٹرس کی طرح ہے۔ عہدیداروں سے بحث و تکرار کے دوران انہیں پولیس کی گاڑی میں بٹھاکر پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔ قبل ازیں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے نریندر مودی حکومت پر طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کو اقتدار میں برقراری کا کوئی حق نہیں ہے۔ وہ کارپوریٹ اداروں کی کٹھ پتلی بن چکے ہیں۔ فوج نے صرف چار سال کیلئے تقررات کا فیصلہ انتہائی بدبختانہ ہے۔ سابق میں 15 تا 20 سال سرویس کی فوج میں اجازت دی جاتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت ملک کی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔ر