احمد آباد: گجرات کے احمد آباد میں ایک پرائیویٹ اسکول میں بیداری پروگرام کے دوران ہنگامہ مچ گیا۔ درحقیقت ہندو طلبہ سے مبینہ طور پر نماز پڑھنے کو کہا گیا تھا۔ اس کے بعد دائیں بازو کے کارکنوں نے منگل کو احتجاج کیا۔ ریاستی حکومت نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ مظاہرے کی ویڈیو میں ایک استاد کو مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ریاستی حکومت نے شہر کے گھاٹلوڈیا علاقے میں واقع کیرولیکس فیوچر اسکول میں 29 ستمبر کو منعقدہ پروگرام کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اسکول نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ پروگرام کے انعقاد کا مقصد طلباء کو مختلف مذاہب کے طریقوں سے آگاہ کرنا تھا اور کسی طالب علم کو نماز پڑھنے پر مجبور نہیں کیا گیا۔اس تقریب کی ایک ویڈیو اسکول کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی، جس میں پرائمری کلاس کے ایک طالب علم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔اس کے بعد چار دیگر طلباء نے بھی ان کے ساتھ ’لب پر آتی ہے دعا‘ گایا۔ اس ویڈیو کو بعد میں اسکول کے فیس بک پیج سے ہٹا دیا گیا۔ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد، بجرنگ دل اور دیگر دائیں بازو کی تنظیموں نے اسکول کے احاطے میں احتجاج کیا۔