تہذیب ہم نے اپنے بزرگوں کی چھوڑ دی
پھر یہ ہوا کہ شرم حیا لے گئی ہوا
وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی آبائی ریاست گجرات میں اسمبلی انتخابات کیلئے پہلے مرحلہ کی انتخابی مہم کا آج اختتام عمل میں آنے والا ہے ۔ پہلے مرحلے میں یکم ڈسمبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ دوسرے مرحلہ کی انتخابی مہم کا 3 ڈسمبر کو اختتام ہوگا اور پانچ ڈسمبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ گجرات میں جس طرح سے انتخابی مہم چلائی گئی اس کا نوٹ لینے کی ضرورت ہے ۔ گجرات میں بی جے پی گذشتہ 27 سال سے اقتدار میں ہے ۔ کئی چیف منسٹرس یہاں تبدیل ہوئے ہیں۔ خود نریندر مودی طویل وقت تک چیف منسٹر رہے ۔ پھر آنندی بین پٹیل کو یہ عہدہ دیا گیا ۔ وجئے روپانی بھی چیف منسٹر رہے اور اب کوئی اور چیف منسٹر ہیں۔ ان سارے قائدین نے بحیثیت مجموعی 27 سال گجرات پر حکومت کی ہے تاہم انتخابی مہم کے دوران اس طویل اقتدار کے دوران انجام دئے گئے کارناموں اور کاموںکا کوئی تذکرہ نہیں کیا جارہا ہے ۔ بی جے پی اور اس کے قائدین کی جانب سے اور انتہائی اہم اور ذمہ دار عہدوں پر فائز افراد کی جانب سے متنازعہ اور نزاعی مسائل ہی کو ترجیحا عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے ۔ کبھی یکساںسیول کوڈ کی بات کی جا رہی ہے تو کبھی 2002 کے فسادات کو سبق سکھانے کا نام دیا جا رہا ہے ۔ اس طرح سے بی جے پی کی جانب سے انتخابی مہم میں بھی اختلافی مسائل کو اٹھاتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ جو انتخابات ہورہے ہیں وہ ریاستی اسمبلی کے ہیں اور ریاست میں تقریبا تین دہوں سے بی جے پی کا اقتدار ہے ۔ ایسے میںضرورت اس بات کی ہے کہ بی جے پی کی جانب سے اپنے طویل اقتدار میں ریاست میں انجام دئے جانے والے کاموں کی تفصیل عوام کے سامنے پیش کرتی ۔ تین دہوں میں گجرات کی حالت میں کس حد تک سدھار پیدا کیا گیا اس کا عوام کے سامنے خلاصہ کیا جاتا ۔ کس حد تک ریاست میں غربت کا خاتمہ کیا اس کا تذکرہ ہوتا ۔ کس حد تک نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا گیا اس کی تفصیل بتائی جاتی ۔ ریاست میں خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے کیا کچھ کیا گیا اس سے عوام کو واقف کروایا جاتا ۔
ملک کی کسی بھی ریاست میں انتخابات ہوں ریاستی حکومت اور برسر اقتدار پارٹی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اقتدار میں عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کا تذکرہ کیا ۔ آئندہ کیلئے اپنے منصوبوں اور پروگراموں سے عوام کو واقف کروایا جائے ۔ عوام کو سہولتیں اور راحت فراہم کرنے کے وعدے کئے جائیں۔ تاہم گجرات میں پھر ایک بار ایسی انتخابی مہم چلائی جا رہی ہے جس کا ریاستی عوام کو درپیش مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ایسے مسائل اٹھائے جا رہے ہیں جن سے حکومت کی کارکردگی کا کوئی تجزیہ نہیں کیا جاسکتا ۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے پاس ایسے کوئی کام ہی نہیں ہیں جن کو وہ عوام کے سامنے پیش کرتے ہوئے دوبارہ ووٹ مانگ سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی جذبات کا استحصال کیا جا رہا ہے ۔ مذہبی اور نزاعی مسائل کو ہوا دیتے ہوئے انتخابی مہم کے دوران عوامی اور اہمیت کے حامل مسائل کو پس پشت ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ملک کے وزیر داخلہ خود انتہائی ذمہ دار عہدہ پر فائز رہتے ہوئے گجرات فسادات کو سبق سکھانے سے تعبیرکر رہے ہیں۔ ریاستی حکومت کے ذمہ داروں کی جانب سے یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے کی بات کی جا رہی ہے ۔ یہ وعدہ کوئی نہیں کر رہا ہے کہ عوام میں بیروزگاری کو ختم کرنے اقدامات کئے جائیں گے ۔ یہ تذکرہ کوئی نہیں کر رہا ہے کہ مہنگائی پر قابو اپنے کی کوشش کی جائے گی ۔ یہ وعدہ کوئی نہیں کر رہا ہے کہ نوجوانوں اور بچوں کو اعلی تعلیم دلانے کیلئے بہتر تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا جائیگا ۔
صرف اختلافی اور نزاعی مسائل کے ذریعہ ریاست کے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے ۔ یکساں سیول کوڈکے نفاذ کی بات کی جا رہی ہے جس کا ریاست کے عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یکساں سیول کوڈ گجرات میں اپنے طور پر نافذ نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ کام مرکزی حکومت کرسکتی ہے اور اس کیلئے ایک قانونی عمل درکار ہوتا ہے ۔ جو کام ریاستی حکومت کے ذمہ ہی نہیں ہے اس کا وعدہ کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کیا جا رہاہے ۔ گجرات کے عوام کو ان تمام باتوں کو ذہن نشین رکھتے ہوئے عوام کے مسائل پیش کرنے والے امیدواروں کو منتخب کرنا چاہئے ۔ اپنی فہم و فراست کا استعمال کرتے ہوئے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنا چاہئے ۔