مذہبی شناحت رکھنے والوںکی شناخت و نگرانی کی گنجائش ۔ سیاسی جماعتیں اور مذہبی تنظیمیں خاموش!
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔14جولائی۔ گجرات پولیس نے اینٹی ریاڈیکلائزیشن سیل کی تشکیل کیلئے جو اعلامیہ جاری کیا ہے اس میں مسلم شبیہ اختیار کرنے والوں کو ’بنیاد پرست‘ کے طور پر نشاندہی کرکے ان پر خصوصی نظر رکھنے رہنما خطوط جاری کئے ہیں ۔ گجرات پولیس نے جو رہنماخطوط جاری کئے ہیں ان میں مسلم نوجوانوں کو مسلم شبیہ رکھنے کی بنیاد پر ’انتہاء پسند‘ سے تعبیر کرکے ان کی نشاندہی کرنے اور نظر رکھتے ہوئے انہیں ’انتہاء پسندی‘ سے باز رکھنے کی ترغیب دینے ’لبرل‘ غیر سرکاری تنظیموں ‘ قائدین اور شخصیات کے استعمال کی منصوبہ بندی کا تذکرہ موجود ہے۔ رہنما خطوط کی نقل جو کہ گجراتی میں ہے کے مطابق داڑھی رکھنا ‘ نقاب پہننا ‘ عربی الفاظ کا استعمال کرنا‘ اعتکاف میں بیٹھنا‘ عالمی سطح پر مسلمانوں پر مظالم پر گفتگو کرنا‘ مدارس دینیہ سے وابستگی اور مذہبی شخصیات سے تعلق کو بھی ’انتہاء پسندی‘ قرار دیا گیا ہے۔ان رہنما خطوط میں دینی مدارس ‘ ان میں برسر خدمت علماء و مدرسین کی تفصیلات جمع کرنے اور ان کے ڈوزیئر تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ داڑھی رکھنا ‘ ٹوپی یا نقاب لگانا ‘ اعتکاف کی سنت پر عمل کرنا ہویا مذہبی اداروں یا مدارس سے تعلق رکھنا ہوایہ تمام امور دستور ہند کے مطابق ’مذہبی آزادی‘ کے زمرہ میں ہیں لیکن گجرات پولیس کے رہنما خطوط میں انہیں شامل کرکے مذہبی آزادی کے حق کا استعمال کرکے مذہبی شناخت پر عمل کرنے والوں کو ’انتہاء پسند‘ قرار دینے کی جو کوشش کی جار ہی ہے وہ دراصل ان مسلم نوجوانوں کو مشتبہ بنانے کے مترادف ہے۔ ماہرین قانون کا کہناہے کہ لباس‘ مذہبی شناخت ‘ زبان‘ یا عبادات کی بنیاد پر اگر نوجوانوں کو ’بنیاد پرست‘ یا ’انتہاء پسند ‘ قرار دیا جانے لگے تو ان میں خوف اور عدم اعتماد پیدا ہوگا اور وہ خود کو غیر محفوظ تصورکرنے لگیں گے۔ گجرات پولیس کے ان رہنمایانہ خطوط پر کسی گوشہ سے اب تک نہ اعتراض کیاگیا اور نہ ہی سیاسی جماعتوں اور مذہبی تنظیموں نے کوئی ردعمل ظاہر کرکے ’اینٹی ریڈکلائیزیشن سیل‘ کے قیام پر توجہ دے کر کوئی آواز اٹھائی ہے جبکہ ’انسداد بنیاد پرستی سیل‘ کے ذریعہ مذہبی شناخت و تشخص کے ساتھ زندگی گذارنے کی کوشش کرنے والوں کی نگرانی کا فیصلہ کیاگیا ہے جو کہ ’مذہبی آزادی ‘ کے خلاف ہے۔ رہنما خطوط میں تین مرحلوں میں مسلم نوجوانوں کی نشاندہی کی بات کی گئی جن میں ابتدائی مرحلہ میں نوجوانوں کی مذہبی نوعیت کے سیمیناروں ‘ لکچر یا اجلاس میں شرکت اور مذہبی امور کی انجام دہی میں پابندی کو رکھا گیا جبکہ دوسرے مرحلہ میں ان نوجوانوں کو شامل کیاگیا جو کہ داڑھی رکھتے ہیں‘ اعتکاف بیٹھتے ہیں‘ نقاب پہننے والی خواتین ‘ کے علاوہ مذہبی شخصیات سے تعلق کے علاوہ مدارس دینیہ سے وابستگی رکھتے ہیں۔اسکے علاوہ ان نوجوانوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے ’ڈیجیٹل ٹول‘ کے استعمال کی بھی منصوبہ بندی ہے تاکہ ان کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کی جاسکے اوران کے سوشل میڈیا پر موجود مواد کا جائزہ لیا جاسکے ۔ رہنما خطوط کے مطابق یہ نوجوان کھاد‘ پوٹاشیم نائیٹریٹ‘ سلفر اور امونیم نائیٹریٹ کے علاوہ ایل پی جی سیلنڈر حاصل کرتے ہیں اور وہ اکثر سنسان علاقوں بالخصوص جنگلاتی علاقوں کا دورہ کرتے رہتے ہیں۔