گجرات میں بی جے پی کی جیت

   

مجھے ملال ہے اپنی فلک نشینی پر
یہی عروج کی حد پھر زوال سامنے ہے

گجرات اور ہماچل پردیش کے اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آ چکے ہیں۔ گجرات میں بی جے پی نے اپنی کامیابی اور اقتدار کا سلسلہ جاری رکھا ہے ۔ کانگریس کو کراری شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے ۔ ہماچل پردیش میں کانگریس نے بی جے پی سے اقتدار چھین لیا ہے اور خود اقتدار پر واپسی کی ہے ۔ یہاں بی جے پی کی حکومت تھی جسے شکست ہوئی ہے ۔ بحیثیت مجموعی اس بار دو اسمبلیوں اور ایک میونسپل کارپوریشن کیلئے انتخابات ہوئے تھے ۔ تینوں ہی جگہ بی جے پی کو اقتدار حاصل تھا ۔ دہلی میونسپل کارپوریشن بھی بی جے پی کے قبضہ میں تھی تو گجرات کی طرح ہماچل میں بھی بی جے پی کی حکومت تھی ۔ اس اعتبار سے دہلی میونسپل کارپوریشن پر عام آدمی پارٹی نے قبضہ کرلیا ہے اور وہاں بی جے پی کے پندرہ سال سے چلے آ رہے اقتدار کو ختم کردیا ہے ۔ اسی طرح ہماچل پردیش میں بھی بی جے پی کی حکومت تھی جسے کانگریس نے بیدخل کردیا ہے اور اقتدار پر واپسی کی ہے ۔ ویسے بھی ہماچل میں یہ روایت رہی ہے کہ ہر پانچ سال میںایک بار اقتدار کو بدلا جاتا ہے جس طرح کی روایت راجستھان میں بھی ہے ۔ بی جے پی تاہم ریاست میں اس روایت کو توڑنے کی کوشش کر رہی تھی جس میں اسے کامیابی نہیں ملی ہے ۔ گجرات میں بی جے پی لگاتار ساتویں مرتبہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے اور اس بار اسے ریکارڈ اکثریت حاصل ہوئی ہے ۔ جو نشانہ آج بی جے پی کو حاصل ہوا ہے اس کی کوشش بی جے پی نے گذشتہ انتخابات میں کی تھی لیکن اس وقت راہول گاندھی کی قیادت میں کانگریس نے شاندار مظاہرہ کیا تھا اور تقریبا بی جے پی کو اقتدار سے بیدخل ہی کردیا تھا ۔ تاہم کچھ حواریوں اور مفاد پرستوں نے سابق میں بھی بی جے پی کی مدد کی تھی اور اس بار بھی اپنا سرگرم رول ادا کیا ہے ۔ سارے میڈیا میں بی جے پی کی گجرا ت میں ریکارڈ کامیابی کی دھوم ہے لیکن اس حقیقت پر کوئی روشنی نہیں ڈال رہا ہے کہ بی جے پی دہلی میونسپل کارپوریشن اور ہماچل پردیش میں اپنا اقتدار گنوا بیٹھی ہے اور وہاں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ یہ درست ہے کہ گجرات کی کامیابی سیاسی اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے ۔
کانگریس کیلئے جہاں گجرات میں کراری شکست قابل غور ہے وہیں اسے ہماچل کی کامیابی سے قدرے راحت ضرور ملی ہے ۔ تاہم گجرات کے نتائج کا جائزہ لیا جائے تویہ واضح ہوجاتا ہے کہ بی جے پی نے اس کیلئے جو تیاری کی تھی وہ انتہائی موثر ثابت ہوئی ہے ۔ بوتھ لیول تک کی منصوبہ بندی کی گئی تھی ۔ ریاست بھر پر اثر انداز ہونے والے عناصر کو استعمال کیا گیا تھا ۔ عوام کے ذہنوں کو موڑنے اور ان پر اثرانداز ہونے کے ہتھکنڈے اور حربے اختیار کئے گئے تھے ۔ بی جے پی نے جہاں اپنے ووٹ بینک کو نہ صرف برقرار رکھنے بلکہ اس میں اضافہ کی حکمت عملی اختیار کی تھی وہیں اپوزیشن کے ووٹ بینک میں دراڑ اور تقسیم کا بھی پورا پورا انتظام کردیا تھا ۔ وزیر داخلہ امیت شاہ کی قیادت میںجو حکمت عملی بنائی گئی تھی وہ بی جے پی کیلئے انتہائی موثر اور شاندار ثابت ہوئی اور بی جے پی کو ریاست میں اپنا اقتدار برقرار رکھنے میں کامیابی ملی ہے ۔ کانگریس کی جہاں تک بات ہے تو گجرات میں کانگریس نے اپنی زمین کھودی ہے ۔ اسے گذشتہ انتخابات میں جوعوامی تائید ملی تھی وہ برقرار نہیں رکھی جاسکی ۔ اس میںاضافہ تو دور کی بات ہے بھاری نقصان کا پارٹی کو سامنا کرنا پڑا ہے ۔ بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی کے آگے کانگریس ایک طرح سے بے بس نظر آئی ہے ۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ بی جے پی کیلئے کئی عوامل نے سرگرم رول ادا کیا ہے جس میں ووٹوںکی تقسیم کی حکمت عملی سب سے زیادہ موثر ثابت ہوئی جس کا ثبوت یہ ہے کہ مسلم غلبہ والے حلقوں میں بی جے پی کو جیت ملی ۔
بی جے پی نے موثر حکمت عملی سے تو ضرور گجرات میں مقابلہ کیا تاہم ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ پارٹی نے پوری طرح سے منفی حکمت عملی اختیار کی ۔ جس طرح سے چند ماہ قبل سے ہی ماحول بنانا شروع کردیا گیا تھا وہ اسی بات کا غماز تھا کہ بی جے پی ترقیاتی منصوبوں یا اپنے کارناموں پر نہیں بلکہ ووٹوں کی تقسیم میں زیادہ یقین رکھتی ہے کیونکہ اس کیلئے یہی حکمت عملی زیادہ کارآمد ثابت ہوتی رہی ہے اور گجرات میں یہ ایک بار پھر ثابت بھی ہوگیا ہے ۔ سیاسی اعتبار سے بی جے پی کو کامیابی ملی ہے لیکن دو مقامات پرا س کا اقتدار ختم بھی ہوا ہے اور اسے گجرات میں بھی منفی حکمت عملی کا سہارا لینا پڑا تھا ۔ یہ نکتہ قابل غور ضرور ہوسکتا ہے ۔