وڈوڈرہ سٹی میں 26 سالہ نوجوان گرفتار ، دیگر مذہب کی خاتون کو پھنسانے کا الزام
احمد آباد : گجرات پولیس نے جبری اور دھوکہ بازی والی مذہبی تبدیلی کیخلاف نئے قانون کے تحت ریاست میں پہلی ایف آئی آر درج کی ہے ۔ یہ قانون ان معاملوں کے انسداد کیلئے بنایا گیا ہے جن میں شادی کے ذریعہ مذہب جبراً تبدیل کیا جاتا ہے ۔ ایک سینئر عہدیدار نے آج کہا کہ شہر وڈوڈرہ میں 26 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ گوتری پولیس نے ایف آئی آر درج کیا اور قانون انسداد مذہبی تبدیلی 2021 ء کے تحت سمیر قریشی کو گرفتار کیا ۔ یہ قانون سخت سزا کی گنجائش فراہم کرتا ہے ۔ ڈی سی پی وڈودرہ سٹی جئے راج سنہہ والا نے بتایا کہ قریشی اپنے باپ کے ساتھ مٹن شاپ چلاتا ہے ۔ اس نے دیگر مذہب کی لڑکی کو پھانسا اور اس کیلئے خود کو عیسائی بتایا ۔ قریشی نے 2019 ء میں سوشیل میڈیا پر لڑکی سے ملاقات پر کہا کہ وہ سام مارٹن ہے ۔ شکایت کے مطابق قریشی نے جعلی شناخت کے ذریعہ لڑکی کو دھوکہ دیا ، اسے محبت کے جال میں پھانسا اور اس کا ریپ کیا۔ پھر ملزم نے اس کے قابل اعتراض تصاویر استعمال کرتے ہوئے اسے بلیک میل کرنا شروع کیا اور مجبور کیا کہ اس کے ساتھ شادی کرلے ۔ اس نے اسے اسقاط حمل کیلئے بھی مجبور کیا ۔ وہ لڑکی قریشی کو عیسائی سمجھتی رہی لیکن بعد میں حقیقی مذہب کا پتہ چلا جب اس نے شادی کی تقریب کو نکاح کہا۔ شادی کے بعد ملزم نے سب سے پہلے لڑکی کا نام تبدیل کیا اور پھر اسے مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا ۔