گجرات میں سیاسی ڈرامے

   

Ferty9 Clinic

گجرات میں اسمبلی انتخابات کا وقت قریب آچلا ہے ۔ امیدواروں کی نامزدگیاں ہو رہی ہیں۔ سیاسی جماعتیں انتخابی حکمت عملی بنانے میں مصروف ہیں۔ انتخابی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے ۔ عوام سے نت نئے وعدے کئے جا رہے ہیں۔ سابقہ کاموں کا حوالہ دیا جا رہا ہے اور مستقبل کے منصوبے پیش کئے جا رہے ہیں۔ یہ سارا کچھ روایتی اور قدیم طریقہ کار ہے جس کے تحت انتخابات ہوتے ہیں۔ تاہم اس صورتحال کے درمیان سیاسی ڈرامہ بازیاں بھی عروج پر پہونچ چکی ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ سورت ( ایسٹ ) سے اس کے امیدوار کنچن زری والا کا اغواء کرلیا گیا تھا اور نہیںزبردستی اپنا پرچہ نامزدگی واپس لینے کیلئے مجبور کیا گیا ہے ۔ عام آدمی پارٹی کا تو الزام ہے کہ بندوق کی نوک پر انہیںپرچہ واپس لینے کیلئے مجبور کیا گیا ہے ۔ عام آدمی پارٹی کا الزام ہے کہ بی جے پی کی جانب سے یہ سارا کچھ کیا گیا ہے ۔ عام آدمی پارٹی کے تمام بڑے قائدین خود اروند کجریوال ‘ ڈپٹی چیف منسٹر دہلی منیش سیسوڈیا ‘ رکن پارلیمنٹ راگھو چڈھا وغیرہ نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پارٹی امیدوار کو کل سے یرغمال بنالیا گیا تھا ۔ پہلے انہیں مقابلہ سے روکنے کی کوشش کی گئی ۔ ان کے پرچہ کو مسترد کروانے کی جدوجہد کی گئی اور جب اس میں بھی ناکامی ہوئی تھی انہیںاغواء کرلیا گیا اور ان کو بندوق کی نوک پر پرچہ نامزدگی واپس لینے کیلئے مجبور کیا گیا ۔ الیکشن کمیشن سے اس سارے معاملہ کی شکایت کرتے ہوئے فوری مداخلت کرنے کی اپیل کی گئی ہے اوریہ دعوی کیا گیا ہے کہ یہ ؎صرف ایک امیدوار کا اغواء نہیں بلکہ سارے جمہوری عمل کا اغواء ہے اور اس پر الیکشن کمیشن کو فوری حرکت میںآنے کی ضرورت ہے ۔ عام آدمی پارٹی کا دعوی ہے کہ بی جے پی کو گجرات انتخابات میںشکست ہو رہی ہے اس کی وجہ سے وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے اوراس طرح کے ہتھکنڈے اختیار کئے جارہے ہیں۔ بی جے پی نے تاہم ابھی تک ان سارے الزامات پر کوئی واضح جواب نہیں دیا ہے اور نہ ہی کوئی ردعمل ظاہر کیا ہے تاہم یہ ضرور ہے کہ گجرات میںسیاسی ڈرامے عروج پر پہونچنے لگے ہیں۔
گجرات میں یکم اور 5 ڈسمبر کو رائے دہی ہونے والی ہے ۔ سیاسی جماعتوںکی جانب سے عوام میں پہونچنے اور ان کی تائید حاصل کرنے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ پارٹیوں کے باغی اور ناراض ارکان کو منانے کی کوششیں بھی تیز ہوگئی ہیں اور ان سب کے دوران ایک امیدوار کے اغواء اور اسے بندوق کی نوک پر پرچہ نامزدگی سے دستبرداری کیلئے مجبور کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے جو انتہائی سنگین ہے ۔ یہ جمہوری عمل سے مذاق ہے اور اس کا الیکشن کمیشن کو فوری اور سخت نوٹ لینے کی ضرورت ہے ۔ اس پر فوری حرکت میںآتے ہوئے سارے معاملے کی تحقیقات کروائی جانی چاہئیں ۔ حقائق کو منظر عام پر لاتے ہوئے ایسا کرنے والوں کا حقیقی چہرہ عوام میں پیش کیا جانا چاہئے ۔ یہ جمہوریت سے کھلواڑ ہی نہیں بلکہ ایک بھونڈا مذاق ہے ۔ اگر تمام الزامات جو عام آدمی پارٹی عائد کر رہی ہے درست ہے تو پھر یہ انتہائی سنگین معاملہ ہی کہا جاسکتا ہے ۔ جمہوریت میں کسی کو بھی انتخابات میں مقابلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔ عوام کی مرضی ہے کہ جسے چاہیںووٹ دیں اور منتخب کریںاور جسے چاہیں مسترد کردیں۔ تاہم سیاسی جماعتوں اور قائدین کی جانب سے بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوںاور خاص طور پر طاقت کے استعمال کی یا پھر مخالفین یا رائے دہندوںکو ڈرانے دھمکانے کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے ۔ ایسا جمہوری عمل کے خلاف ہے اور ایسے واقعات کے تدارک کیلئے الیکشن کمیشن کو حرکت میں آنا چاہئے ۔
عام آدمی پارٹی کی جانب سے وقفہ وقفہ سے کچھ نہ کچھ الزامات عائد کئے جاتے ہیں ۔ بی جے پی کی جانب سے ان کی تردید بھی کی جاتی ہے تاہم اب جو الزامات عائد کئے گئے ہیں وہ انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں۔ ملک کے جمہوری عمل کیلئے ہی خطرہ پیدا کرنے والا الزام ہے ۔ اگر واقعی یہ الزام درست ہے تو پھر جس کسی نے یہ حرکت کی ہے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے اور اگر یہ الزامات درست نہیں ہیں اور محض عام آدمی پارٹی کی ڈرامہ بازی ہے تو اس کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے ۔ کسی کو بھی جمہوریت کے استحصال یا پھر اس کا مذاق بنانے کی حرکتوں سے باز آجانا چاہئے ۔ ملک کے عوام ایسی حرکتوں کو برداشت نہیں کرینگے ۔