نئی دہلی ۔ 17ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) عام طور پر گجرات کی حکومت یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ ریاست گجرات خواتین کیلئے سب سے محفوظ ترین مقام ہے مگر حکومت کے دعوؤں کے برعکس اسٹیٹ کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار ایک الگ ہی تصویر پیش کرتی ہے ۔ جہاں رپورٹ کے مطابق 2014ء سے اب تک گجرات میں یومیہ ایک خاتون کی عصمت ریزی ریکارڈ کی گئی ہے اور اس طرح 2014سے ستمبر 2019تک 2775 خواتین کی عصمتیں لوٹی گئی ہیں ۔ ایس سی آر بی کے اعداد و شمار کے مطابق اسی مدت کے دوران سالانہ 12ہزار خواتین کے ساتھ چھیڑ خوانی کے واقعات درج کئے گئے ہیں ۔ اس طرح یومیہ تین خواتین کو چھیڑ خوانی کا سامنا کرنا پڑا جب کہ یومیہ ایک خاتون اپنی عصمت گنواں بیٹھی ۔ رپورٹ کے مطابق 2018ء میں عصمت ریزی کے سب سے زیادہ واقعات (572) کیسیس درج کئے گئے ۔ جب کہ 2014ء میں عصمت ریزی کے 424کیس ریکارڈ کئے گئے ہیں ۔ سال 2019ء میں ستمبر تک عصمت ریزی کے تقریباً 400 معاملات درج کئے گئے ہیں ۔ اسی طرح 2018ء میں ستمبر تک 447 کیسیس درج کئے گئے تھے ۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ 2014 سے ستمبر 2019تک مجموعی طور پر 2775 خواتین کی عصمتیں تار تار کی گئی ہیں ۔ ستمبر 2015سے 2019 تک احمدآباد میں 219 عصمت ریزی کے کیسیس درج کئے گئے، جو کہ ریاست کے چار بڑے شہروں میں عصمت ریزی کے سب سے بڑی تعداد ہے ۔