گجرات و ہماچل حکومتیں اور ذمہ داریاں

   

تم تو اپنی انا میں کھوئے ہو
یہ خودی ہے کہ بے خودی ہے یہ


گجرات اور ہماچل پردیش میںاسمبلی انتخابات کا عمل مکمل ہوچکا ہے ۔ انتخابی مہم بڑے زور و شور کے ساتھ چلائی گئی ۔ اہم اور غیر اہم تمام مسائل کو موضوع بحث بنایا گیا ۔ عوام کو بنیادی اور اہمیت کے حامل مسائل سے بھٹکاتے ہوئے اپنے سیاسی فائدہ کو یقینی بنانے کیلئے تمام حربے اور ہتھکنڈے بھی اختیار کئے گئے ۔ مخالف جماعتوں پر الزامات عائد کئے گئے ۔ اپنے منصوبے اور پروگرامس پیش کرنے کی بجائے ایسے امور پر توجہ دی گئی جن کا ریاستوں یا وہاں کے عوام کی ترقی یا ان کے بنیادی مسائل کی یکسوئی سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔ رائے دہی بھی مکمل ہوگئی ۔ نتائج کا بھی اعلان کردیا گیا ۔ گجرات میں توقعات کے مطابق بی جے پی کو بھاری کامیابی حاصل ہوئی ۔ میڈیا اور دیگر گوشوں سے اسی کامیابی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی جبکہ بی جے پی کو ہماچل پردیش اسمبلی اور دہلی میونسپل کارپوریشن انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس شکست کو اہمیت دے کر پیش کرنے کی بجائے صرف گجرات کی کامیابی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ۔ دونوں ہی ریاستوں میں نئی حکومتیں تشکیل پا چکی ہیں۔ گجرات میں بھوپیندر پٹیل کو دوسری معیاد کیلئے بی جے پی نے چیف منسٹر برقرار رکھا ہے جبکہ ہماچل پردیش میں کانگریس نے سکھویندر سکو کو چیف منسٹر بناتے ہوئے ایک نئے باب کا آغاز کرنے کی کوشش کی ہے ۔ دونوں ہی ریاستوں میں عوام نے ان جماعتوں کو اپنی بڑی توقعات کے ساتھ منتخب کیا ہے ۔ انہیں ووٹ دیتے ہوئے اقتدار سونپ دیا ہے اور یہ امید باندھی ہے کہ یہ حکومتیں ان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں گی ۔ ان سے جو وعدے کئے گئے تھے ان کی تکمیل میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جائے گی ۔ انہیں جو مسائل درپیش ہیں ان کو سمجھتے ہوئے اور ان کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں حل کرنے اور عوام کو راحت پہونچانے کیلئے حکومتوں کی جانب سے منصوبے بنائے جائیں گے ۔ اکثر عوام انہیں توقعات کے ساتھ سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو ووٹ دے کر انہیں اقتدار سونپ دیتے ہیں لیکن یہ وعدے کبھی پورے نہیں ہوتے ۔ صرف ٹالے جاتے ہیں۔
حکومتوں کی جانب سے دکھاوے کے کچھ اقدامات کرتے ہوئے تشہیر بٹوری جاتی ہے ۔ اسکیمات کا اعلان کرکے واہ واہی کروائی جاتی ہے جبکہ ان پر عمل آوری صفر کے برابر ہوتی ہے ۔ مہنگائی پر قابو پانا ہو یا بیروزگاری کو دور کرنے کے اقدامات ہوں‘ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی ہو یا پھر عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا مسئلہ ہو سبھی معاملات میں حکومتیں صرف عوام کو تسلیاں اور دلاسے دینے میں مصروف رہتی ہیں۔ حقیقی معنوں میں عملی اقدامات میں کئی طرح کے مسائل پیدا کئے جاتے ہیں۔ اسکیمات عوام تک پہونچتے پہونچتے اپنا وجود ہی کھو بیٹھتی ہیں۔ کبھی حکومتوں کی جانب سے ٹال مٹول کی جاتی ہے تو کبھی عہدیداروں کی جانب سے مسائل پیدا کئے جاتے ہیں۔ غرض یہ کہ عوام صرف توقعات کے سہارے زندگی گذارتے ہیں اور ان سے کئے گئے وعدے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ اب جبکہ ہماچل پردیش اور گجرات میں نئی حکومتیں تشکیل پائی ہیں اور عوام کو نئی توقعات پیدا ہوئی ہیں تو ان حکومتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انتخابی مہم کے دوران کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں کوئی کسر باقی نہ رکھیں۔ عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کیلئے منصوبے تیار کئے جائیں۔ عہدیداروں کو پابند کیا جائے کہ مقررہ وقت میں کاموں کی تکمیل کی جائے ۔ کرپشن کے خاتمہ کیلئے بھی خاص توجہ کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ عہدیداروں اور عوامی نمائندوں کو جوابدہ بنانے کیلئے بھی پہل کرتے ہوئے عوام کا اعتماد برقرار رکھا جانا چاہئے ۔
انتخابی مہم کے دوران جو تلخیاں پیدا ہوئی تھیں انہیں فراموش کرتے ہوئے عوامی فلاح اور ترقی کے علاوہ ریاست کے مفادات پر خاص توجہ مرکوز کرتے ہوئے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ جو تاثر عوام کے ذہنوں میں پختہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اقتدار حاصل کرنے کے بعد اپنے وعدوں کو فراموش کردیتی ہیں تو اس تاثر کو بدلنے میں نئی حکومتوں کو کوئی کسر باقی نہیں رکھنی چاہئے ۔ حکومتیں عوام کے ووٹ سے اور عوام کیلئے ہی تشکیل پاتی ہیں اس لئے اقتدار کے مزے لوٹنے کی بجائے عوام کی بہتری اور ریاستوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے پر کسی سمجھوتے کے بغیر بلا تکان جدوجہد کئے جانے کی ضرورت ہے ۔