گجرات کے سورت میں مسلمانوں کیخلاف بی جے پی کارپوریٹر کی سازش بے نقاب

,

   

SIR کے نام پر مخالف مسلم کارروائی
فہرست رائے دہندگان سے سینکڑوں نام حذف کرنے کی کوشش، پولیس میں شکایت کے باوجود کوئی کارروائی نہیں

حیدرآباد ؍ سورت 5 فروری (سیاست نیوز) الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے ووٹر لسٹ پر خصوصی نظرثانی مہم (SIR) کے ذریعہ ملک بھر میں اقلیتوں کے ناموں کو حذف کرنے سے متعلق شکایات کے دوران گجرات کے سورت میں بی جے پی لیڈر کی سازش منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ مسلمانوں کے نام ووٹرلسٹ سے نکالنے کیلئے باقاعدہ مہم چلارہے ہیں۔ سورت کے صلابت پورہ کے سینکڑوں مسلمانوں نے مقامی پولیس اسٹیشن میں بی جے پی کارپوریٹر وکرم پوپٹ پاٹل کیخلاف شکایت کی جس میں کہا گیا ہیکہ بی جے پی لیڈر الیکشن کمیشن کو فارم 7 کے ذریعہ مسلمانوں کے نام حذف کرنے کی نمائندگی کررہے ہیں۔ نظرثانی کیلئے فارم 7 پُر کرنے کی شرط رکھی گئی ہے۔ بی جے پی لیڈر اِس فارم کا بیجا استعمال کرتے ہوئے اپنی دستخط کے ساتھ سینکڑوں مسلمانوں کو مُردہ قرار دیکر نام حذف کرنے کی سفارش کررہے ہیں۔ صلابت پورہ کے زندہ اور بقید حیات مسلم خاندانوں کو مُردہ قرار دیتے ہوئے بی جے پی لیڈر نے یہ مذموم مہم چھیڑ رکھی ہے۔ بی جے پی لیڈر نے اپنی دستخط سے جتنے بھی فارم 7 داخل کئے ہیں، وہ تمام مسلمانوں کے خلاف ہیں۔ میڈیا نے جب اِس بارے میں وکرم پاٹل سے ربط قائم کیا تو اُنھوں نے کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا اور میڈیا کے فون کالس اور پیامات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ فارم 7 پر موجود دستخط کا جب الیکشن کمیشن کو دائر کردہ حلفنامہ پر کی گئی دستخط سے تقابل کیا گیا تو دونوں دستخط وکرم پوپٹ پاٹل کے پائے گئے۔ سورت میونسپل کارپوریشن کے 2021ء میں انتخابات کے موقع پر بی جے پی لیڈر نے جو حلفنامہ داخل کیا تھا، اُس پر وہی دستخط ہیں جو مسلمانوں کے خلاف داخل کردہ فارم 7 پر ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہیکہ ثبوت کے ساتھ پولیس میں شکایت درج کرانے کے باوجود تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور صلابت پورہ پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر کے ڈی جڈیجہ نے میڈیا کو اِس بارے میں کوئی جواب نہیں دیا۔ 69 سالہ عبدالرزاق وزیر شاہ جو انور نگر علاقہ کے ساکن ہیں، اُنھوں نے شکایت کی کہ بی جے پی کی جانب سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ مسلمانوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کیلئے فہرست رائے دہندگان سے نام حذف کئے جارہے ہیں۔ بی جے پی کی سازش کا انکشاف اُس وقت ہوا جب 19 ڈسمبر 2025ء کو فہرست رائے دہندگان کا مسودہ جاری کیا گیا۔ نظرثانی مہم کے دوران جاری کئے گئے مسودہ میں شکایت کنندگان کے نام موجود تھے لیکن بی جے پی لیڈر نے الیکشن کمیشن کی جانب سے 18 جنوری 2026ء تک دی گئی مہلت کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف بڑی تعداد میں فارم 7 داخل کئے اور یہ دعویٰ کیاکہ فارم میں جو نام پیش کئے گئے ہیں وہ اب اِس دنیا میں نہیں ہیں۔ عبدالرزاق وزیر شاہ نے دعویٰ کیاکہ نظرثانی مہم کے دوران اُنھوں نے دستاویزات پیش کئے جس کی بنیاد پر فہرست کے مسودے میں اُن کا نام شامل کیا گیا بعد میں علاقہ کے بی جے پی کارپوریٹر نے فارم 7 داخل کرتے ہوئے اُنھیں مُردہ قرار دیا۔ بوتھ لیول آفیسر سے اِس بات کی اطلاع ملی اور فارم 7 دیکھ کر وہ حیرت میں پڑگئے۔ اتفاق سے بوتھ لیول آفیسر مسلمان ہیں، لہذا اُس نے بی جے پی کارپوریٹر کی سازش کی مقامی افراد کو اطلاع دے دی۔ عبدالرزاق کے علاوہ اُن کے فرزند اور اہلیہ کے خلاف بھی فارم 7 داخل کیا گیا۔ بی جے پی کارپوریٹر کی سازش کی اطلاع جیسے ہی علاقہ میں پھیلی رائے دہندوں نے اپنے نام جانچنے شروع کئے۔ میڈیا کو کئی ایسے فارم ہاتھ لگے ہیں جن میں 228 افراد کو مُردہ قرار دیتے ہوئے نام حذف کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ مقامی مسلمانوں نے دستاویزی ثبوت کے ساتھ پولیس میں بی جے پی کارپوریٹر کے خلاف شکایت درج کرائی۔ اُنھوں نے ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی برسوں سے ایک ہی اڈریس پر قیام کرنے والے افراد کو بھی مُردہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق فارم 7 کا غلط استعمال بھی قابل سزا جرم ہے۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر آسام ہیمنت بسوا شرما نے حال ہی میں بی جے پی کارکنوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف فارم 7 داخل کرتے ہوئے اُن کے نام فہرست رائے دہندگان سے خارج کرائیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ سورت کے بی جے پی کارپوریٹر کی اِس حرکت پر پولیس اور مقامی حکام کیا کارروائی کریں گے۔1