گھروں کو پہونچکر انکوائری کرنے کے بجائے فون اور واٹس ایپ پر چھان بین ، جعلی ووٹوں کا خدشہ
حیدرآباد ۔ 22 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ میں گریجویٹ ایم ایل سی حلقوں کے لیے جاری ووٹر رجسٹریشن کے عمل میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں اور بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے ۔ محبوب نگر ، رنگاریڈی ، حیدرآباد اور ورنگل ، کھمم ، نلگنڈہ ، نشستوں کے لیے فارم 18 کے ذریعے موصول ہونے والی لاکھوں درخواستوں کی جانچ پڑتال زمینی سطح پر کرنے کے بجائے صرف فون کالس اور واٹس ایپ کے ذریعہ دستاویزات منگوا کر خانہ پوری کی جارہی ہے ۔ تاحال محبوب نگر ۔ رنگاریڈی ۔ حیدرآباد حلقے سے 1.89 لاکھ اور ورنگل ۔ کھمم ۔ نلگنڈہ سے 2.36 لاکھ درخواستیں موصول ہوچکی ہیں ۔ قواعد کے مطابق بوتھ لیول آفیسرس کو براہ راست درخواست گذاروں کے پتے پر جاکر تصدیق کرنی چاہئے کہ آیا وہ مقام کے اصل رہائشی ہیں اور جمع کرائی گئی ڈگری کی اسناد اصلی ہے یا نہیں ضرورت پڑنے پر درخواست دہندگان کو طلب کر کے اصل دستاویزات کا معائنہ کیا جانا چاہئے ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے آر ڈی او اور منڈل سطح پر آفیسرس کا تقرر تو کیا گیا ۔ لیکن ان میں سے بیشتر آفیسرس اور بی ایل اوز فیلڈ پر جانے کے بجائے آن لائن درخواست دینے والوں کو براہ راست فون کررہے ہیں کہ اپنی دستاویزات دوبارہ واٹس ایپ پر بھیج دیں ۔ جب کہ زمینی سطح پر اس پر بالکل عمل نہیں ہورہا ہے ۔ ریاستی چیف الیکٹورل آفیسرس سدرشن ریڈی کو باضابطہ طور پر درخواستیں دی گئی ہیں کہ باہر کے اضلاع اور ریاستوں کے لوگ بھی مبینہ طور پر گریجویٹ ووٹرس کی فہرست میں اپنے نام غلط طور پر درج کروا رہے ہیں چونکہ فارم 18 میں آدھار کارڈ اور ووٹر آئی ڈی کو ایک آپشن رکھا گیا ہے ۔ اس لیے بہت سے لوگ اپنی تفصیلات آن لائن رجسٹر نہیں کررہے ہیں ۔ اصولاً فارم 18 کے کاغذی فارمس ہر AERO ، ERO نامزد آفیسرس کے دفاتر اور مقامی BLOs کے پاس دستیاب ہونے چاہئے لیکن یہ بہت سی جگہوں پر دستیاب ہی نہیں ہے ۔ بی ایل اوز عوام کو یہ کہہ کر ٹال رہے ہیں کہ وہ خود ان لائن درخواست دیں ۔ فارم 18 کی عدم دستیابی کی وجہ سے عوام می سیوا سنٹرس کا رخ کر رہے ہیں ۔ دوسری جانب بڑی سیاسی جماعتیں ، اساتذہ تنظیمیں اور دیگر اداروں کی جانب سے لیپ ٹاپس کے ساتھ خصوصی کیمپس کا انعقاد کرتے ہوئے آن لائن درخواستوں کی خانہ پری کی جارہی ہے اور انہیں درخواست گذاروں سے فون پر تفصیلات لے کر تصدیق کی کارروائی مکمل کی جارہی ہے ۔ مختلف تنظیموں نے شدید خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر قواعد کے مطابق مناسب زمینی تحقیقات نہ کی گئی تو ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر جعلی ووٹ شامل ہوسکتے ہیں ۔۔ 2/m/b