27 بلدیات کی شمولیت سے بجٹ میں اضافہ، اسٹانڈنگ کمیٹی کا آج اہم اجلاس
حیدرآباد۔28۔ڈسمبر(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد اور جی ایچ ایم سی حدود کی ترقی میں پرانے شہر کے وصول ہونے والے مالیہ کا بڑا حصہ موجود ہے اور عہدیداروں کے مطابق پرانے شہر سے وصول ہونے والی آمدنی کا جو تخمینہ لگایا گیا ہے اس کے مطابق مالی سال 2026-27 کے دوران 4581 کروڑ ہے جو کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے ترقیاتی کاموں میں استعمال کیا جائے گا۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے لئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کو اسٹینڈنگ کمیٹی اجلاس میں پیش کرتے ہوئے منظور کیا جائے گا اور تلسنکرانت سے قبل جی ایچ ایم سی جنرل باڈی کا اجلاس منعقد کرتے ہوئے بجٹ کی منظوری کو یقینی بنایا جائے گا۔ کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد مسٹر آر وی کرنن کی نگرانی میں تیار کئے گئے جی ایچ ایم سی کے بجٹ کے سلسلہ میں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مالی سال 2026-27کے لئے 11 ہزار 460کروڑ کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جو کہ 29 ڈسمبر کو منعقد ہونے والے اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کرتے ہوئے اس پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور منظوری کے بعد بلدیہ کے جنرل باڈی اجلاس کی تاریخ کا اعلان کئے جانے کا امکان ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں 27بلدیات کو شامل کئے جانے کے بعد جو حدود متعین کئے گئے ہیں ان حدود کے مطابق جی ایچ ایم سی نے اپنے بجٹ کی تیاری عمل میں لائی ہے ۔ بلدی عہدیداروں نے بتایا کہ جی ایچ ایم سی حدود میں ترقیاتی کاموں کی انجام دہی کے سلسلہ میں تیار کئے گئے بجٹ منصوبہ میں شہر کے تمام حصوں کی ترقی کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے ۔مئیر جی ایچ ایم سی محترمہ گدوال وجیہ لکشمی کی صدارت میں منعقد ہونے والے اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس کے دوران بجٹ کے منصوبوں کو منظوری دینے کے بعد جنرل باڈی اجلاس میں پیش کیاجائے گا اور منظورہ بجٹ کو ریاستی حکومت کے پاس روانہ کرتے ہوئے درکار گرانٹ کے حصول کے لئے نمائندگی کی جائے گی۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے لئے بجٹ کی تجاویز کی منظوری کے سلسلہ میں کی جانے والی کاروائی کے متعلق عہدیداروں کا کہناہے کہ مالی سال 2025-26 کے لئے جی ایچ ایم سی نے 8ہزار 440 کروڑ کے بجٹ کو منظوری دی تھی اور بعد ازاں اس میں تبدیلی لاتے ہوئے 9000ہزار کروڑ کیا گیاتھا اور سال 2026-27 کے لئے جی ایچ ایم سی نے 27 بلدیات کے انضمام سے قبل 9200کروڑ کی بجٹ تجاویز تیار کی تھیں لیکن انضمام کے بعد اس میں اضافہ کرتے ہوئے 11ہزار460 کروڑ کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ اس بجٹ کی منظوری کے بعد ریاستی و مرکزی حکومت سے حاصل ہونے والی گرانٹ کے سلسلہ میں دونوں ہی حکومتوں کو متوجہ کروایا جائے گا تاکہ مالی سال کے اختتام سے قبل گرانٹ کے حصول کو یقینی بنایا جاسکے۔3