گریٹر حیدرآباد کارپوریشن کے وسط مدتی انتخابات پر غور

   

Ferty9 Clinic

کے سی آر نے رپورٹ طلب کی، کارپوریٹر سے عوام کی ناراضگی، بی جے پی متحرک
حیدرآباد۔25 ۔ جولائی (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ جاریہ سال تمام انتخابات کو مکمل کرنے کے مقصد سے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے وسط مدتی انتخابات کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے موجودہ سیاسی صورتحال میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات کی صورت میں پارٹی کے امکانات پر سینئر قائدین سے مشاورت کی۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی قائدین کی تشکیل شدہ ٹیم کے علاوہ انٹلیجنس سے رپورٹ حاصل کی جارہی ہے ۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر نے اسمبلی کے 6 ماہ قبل وسط مدتی انتخابات کرائے تھے۔ لوک سبھا انتخابات کے بعد مجالس مقامی کے انتخابات منعقد ہوئے اور اگست میں میونسپلٹیز کے انتخابات کا منصوبہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر تمام اداروں کے انتخابات کا عمل 2019 ء میں مکمل کرنا چاہتے ہیں تاکہ 2020 ء سے حکومت کے کاموں پر توجہ مرکوز کی جاسکے۔ پارٹی قائدین کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر 2020 ء کے بعد سے ریاست کی ترقی اور فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کو یقینی بنائیں گے اور باقی چار سال ریاست کے لئے ترقی کی سمت پیش قدمی کا دور ہوگا۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی میعاد فروری 2021 ء میں ختم ہوگی۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں پارٹی کی رکنیت سازی مہم کے دوران ریاستی وزیر افزائش مویشیاں سرینواس یادو نے جی ایچ ایم سی کے وسط مدتی انتخابات کا اشادہ دیا ہے جس کے بعد سے سیاسی حلقوں میں سرگرمیاں تیز ہوچکی ہیں۔ برسر اقتدار پارٹی کے قائدین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ گریٹر انتخابات کے لئے تیار رہیں جو کہ کسی بھی وقت ہوسکتے ہیں۔ پارٹی کے موجودہ کارپوریٹرس سے قائدین کی مشاورت کا آغاز ہوچکا ہے ۔ 150 رکنی جی ایچ ایم سی میں ٹی آر ایس ارکان کی تعداد 100 ہے اور چیف منسٹر وسط مدتی انتخابات کے ذریعہ نشستوں میں اصافہ کا منصوبہ رکھتے ہیں ۔ اسمبلی انتخابات کے فارمولہ کو گریٹر انتخابات میں اختیار کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ نئے میونسپل ایکٹ کے تحت حیدرآباد کے نواحی علاقوں میں 6 میونسپلٹیز کو کارپوریشن کا درجہ دیا گیا ہے ۔ پارٹی قائدین نے تجویز پیش کی کہ ان کارپوریشنوں کو جی ایچ ایم سی میں ضم کردیا جائے تو پارٹی کو فائدہ ہوگا۔ اگر مذکورہ کارپوریشنوں کو جی ایچ ایم سی میں ضم کیا جاتا ہے تو مجوزہ میونسپلٹیز کے انتخابات سے ان علاقوں کو استثنیٰ حاصل ہوجائے گا۔ قائدین کا خیال ہے کہ انتخابات میں تاخیر کی صورت میں حکومت کے خلاف عوامی ناراضگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ پارٹی قیادت کو اطلاعات موصول ہوئی ہے کہ گریٹر کے حدود میں کئی کارپوریٹرس کی کارکردگی سے عوام خوش نہیں ہیں۔ ان حالات میں وسط مدتی انتخابات کا فیصلہ بہتر رہے گا۔ دوسری طرف بی جے پی گریٹر حیدرآباد حدود میں بہتر مظاہرہ کی تیاری کر رہی ہے ۔ لوک سبھا انتخابات میں تلنگانہ میں چار نشستوں پر کامیابی کے بعد پارٹی کیڈر کے حوصلے بلند ہوچکے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں اگرچہ بی جے پی کو اسمبلی کی صرف ایک نشست پر کامیابی حاصل ہوئی لیکن لوک سبھا انتخابات میں بہتر مظاہرہ کے بعد پارٹی کا اگلا نشانہ جی ایچ ایم سی ہے۔