حیدرآباد ، سکندرآباد اور ملکاجگری سے مضبوط امیدواروں کی تلاش، دیپا داس منشی کی پارٹی قائدین سے مشاورت، پرانے شہر میں کانگریس کے احیاء کی تیاریاں
حیدرآباد ۔11 ۔ جنوری (سیاست نیوز) لوک سبھا انتخابات کی تیاریوں میں مصروف کانگریس پارٹی کے لئے گریٹر حیدرآباد کے حدود میں پارٹی کا احیاء کسی چیلنج سے کم نہیں ہے ۔ اسمبلی چناؤ میں 119 کے منجملہ 64 نشستوں پر کامیابی کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے کے فوری بعد کانگریس پارٹی کا اگلا امتحان لوک سبھا چناؤ ہے جو اپریل میں منعقد ہوسکتے ہیں۔ پارٹی نے کامیابی کا تسلسل جاری رکھنے کیلئے وزراء اور عوامی نمائندوں کو لوک سبھا حلقہ جات کا انچارج اور کوآرڈینیٹر مقرر کیا ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے تحت دو حلقہ جات حیدرآباد اور سکندرآباد کی ذمہ داری ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا کو دی گئی ہے جن کا تعلق کھمم ضلع سے ہے۔ بھٹی وکرمارکا گریٹر حیدرآباد کی سیاسی صورتحال اور یہاں کانگریس پارٹی کے نشیب و فراز سے بہتر طور پر واقف نہیں ہے، لہذا شہر سے تعلق رکھنے والے سینئر قائدین کو اس بات کی امید بہت کم ہے کہ پارٹی لوک سبھا چناؤ میں دونوں حلقہ جات میں اپنے مظاہرہ کو بہتر بناسکتی ہے۔ تلنگانہ امور کی اے آئی سی سی انچارج دیپاداس منشی نے گریٹرحیدرآباد کے سینئر قائدین سے انفرادی ملاقات کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیا ۔ اسمبلی چناؤ میں پارٹی کی گریٹر حیدرآباد کے حلقوں میں شکست کی وجوہات کا جائزہ لیا گیا۔ کانگریس نے ریاست کے دیہی علاقوں میں کامیابی کے ذریعہ اقتدار حاصل کیا لیکن بی آر ایس کے لئے گریٹر حیدرآباد ایک اہم سہارا ثابت ہوا، جہاں 16 نشستوں پر اسے کامیابی حاصل ہوئی ۔ گریٹر حیدرآباد کے تحت جملہ 24 اسمبلی حلقہ جات ہیں جن میں کانگریس کو ایک پر بھی کامیابی نہیں ملی ۔ مجلس نے 7 اور بی جے پی ایک نشست پر کامیاب ہوئی۔ کئی اسمبلی حلقہ جات میں کانگریس امیدوار تیسرے نمبر پر رہے۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں پارٹی کا کمزور موقف دراصل قائدین کے آپسی اختلافات کا نتیجہ ہے۔ شہری حدود میں کانگریس قیادت نے نئی نسل کی حوصلہ افزائی کے بجائے قدیم قائدین پر بھروسہ کیا تھا جس کا خمیازہ اسمبلی چناؤ میں بھگتنا پڑا۔ لوک سبھا چناؤ میں حیدرآباد اور سکندرآباد کے علاوہ ملکاجگری لوک سبھا حلقہ پر کانگریس نے توجہ مرکوز کی ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے تحت 4 لوک سبھا حلقے ہیں۔ حیدرآباد اور سکندرآباد کے علاوہ ملکاجگری کے 6 اور چیوڑلہ لوک سبھا حلقہ کے تحت راجندر نگر اور شیر لنگم پلی اسمبلی حلقہ جات آتے ہیں۔ صدر پردیش کانگریس اور چیف منسٹر ریونت ریڈی نے 2019 ء میں ملکاجگری حلقہ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ مجوزہ لوک سبھا چناؤ میں پارٹی ملکاجگری کے علاوہ سکندرآباد میں کامیابی کے امکانات تلاش کر رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ اسمبلی چناؤ میں ملکاجگری لوک سبھا حلقہ کے تمام 7 اسمبلی حلقہ جات میں بی آر ایس کو کامیابی حاصل ہوئی۔ کانگریس کو 2019 لوک سبھا چناؤ میں ملکاجگری ، اپل اور ایل بی نگر اسمبلی حلقہ جات میں اکثریت حاصل ہوئی تھی۔ چیوڑلہ لوک سبھا حلقہ کے تحت 7 اسمبلی حلقہ جات ہیں جن میں سے پرگی ، وقار آباد اور تانڈور میں کانگریس کو کامیابی ملی جبکہ چار اسمبلی حلقہ جات مہیشورم ، راجندر نگر ، شیر لنگم پلی اور چیوڑلہ میں بی آر ایس کامیاب رہی ۔ ملکاجگری لوک سبھا حلقہ پر دوبارہ کامیابی حاصل کرنا ریونت ریڈی کیلئے اہم چیلنج ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق سابق رکن اسمبلی مینم پلی ہنمنت راؤ اس حلقہ کے لئے کانگریس ٹکٹ کے اہم دعویدار ہیں۔ اسمبلی چناؤ میں ہنمنت راؤ کو ملکاجگری اسمبلی حلقہ سے شکست ہوئی تھی۔ کانگریس نے حیدرآباد ، سکندرآباد اور چیوڑلہ حلقہ جات کیلئے مضبوط امیدواروںکی تلاش شروع کردی ہے۔ دیپا داس منشی نے مشورہ دیا ہے کہ تینوں لوک سبھا حلقوں کے اسمبلی حلقہ جات کی سطح پر قائدین اور کارکنوں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے متحرک کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی اسکیمات کی موثر انداز میں تشہیر کے ذریعہ عوامی تائید حاصل کی جاسکتی ہے۔ حیدرآباد میں کانگریس پارٹی مجلس کو سخت مقابلہ دینے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر میں کانگریس کی بنیادیں مستحکم کی جاسکیں۔ 1