ملک بھر کے احتجاجی کسانوں سے نرنتا پرتی بھٹنا سمیتی کا اظہار یگانگت
گلبرگہ : نرنتا پرتی بھٹنا دھرنا سمیتی گلبرگہ جو مختلف تنظیموں کی نمائیندگی کرتی ہے اس کے ارکان و عہدہ داران گلبرگہ نے جمعہ کے دن گلبرگہ میںمرکزی حکومت کی جانب سے منظورکردہ زرعی ترمیمی بلس کی مخالفت کرتے ہوئے اور ملک کے احتجاجی کسانوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے ہندئووںکے سماجی و اخلاقی قوانین پر مشتمل منوسمرتی کی کاپیاں نذر آتش کردیں ۔اس طرح کل اس تنظیم کی جانب سے کسانوں کے حق میںکئے جانے والا احتجاج 12ویںدن میں داخل ہوگیا ۔ واضح رہے کہ ہندو سماج میں خود منو سمرتی کو وہ مقام حاصل نہیںہے جو ویدوں اور اپنشدوںکو ہے ۔ دستور ہند کی تدوین میں سب سے بڑا کردار ادا کرنے والے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے بھی منوسمرتی کی کاپیاں نذر اتش کی تھیں۔ کرناٹک پرانت کرشی کولیکار سنگھ، جنا وادی مہلیا سنگھٹنے ، بھارت گیان وگیان سمیتی، کرناٹک پرانت رعیت سنگھ، ،آل انڈیا کسان سبھا اور ترقی پسند مفکرین پر مشتمل ایک احتجاجی ریالی کرناٹک بھون تاجگت سرکل نکالی گئی جہاںاحتجاجیوںنے زرعی ترمیمی بلس کے خلاف اپنا احتجاج درج کروانے کے لئے منوسمرتی کیا کاپیاںنذر آتش کردیں ۔ احتجاجیوںکا مطالبہ تھا کہ مرکزکوچاہئے کہ وہ نئے زرعی ترمیمی بلس منسوخ کردے اور سابقہ زرعی قوانین کو بحال کردے ۔جنا وادی سنگھٹن کی لیڈر محترمہ کے نیلا کا کہنا تھاکہ احتجاجیوںکو اقل ترین سابقہ امدادی قیمت کی برقراری اور مرکز میں ترتیب دئے گئے قوانین کی واپسی کے لئے ایک قانونی گیارنٹی چاہئے ۔ احتجاجیوں نے مودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ کسانوں کے مطالبات کو قبول کرنے اور نئے زرعی قوانین کو واپس لینے کے معاملہ میںتاخیر کا حربہ استعمال کررہی ہے ۔
