کچھ غمِ زیست کے شکار ہوئے
کچھ مسیحا نے مار ڈالے ہیں
گوا میں بھی کانگریس کیلئے مسائل
ملک کی سب سے قدیم سیاسی جماعت انڈین نیشنل کانگریس کیلئے ایسا لگتا ہے کہ مسائل تھمنے یا رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں۔ ہر گذرتے دن کے ساتھ کسی نہ کسی ریاست میں کسی نہ کسی انداز میں پارٹی کیلئے مشکلات بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ پارٹی قیادت صورتحال کو بہتر انداز میں سمجھنے اور پارٹی کو آئندہ انتخابات کیلئے تیار کرنے کی کوششوں میں اب تک ناکام ہوتی جا رہی ہے ۔ حالیہ عرصہ میں پارٹی کے کئی قائدین نے استعفیٰ پیش کرتے ہوئے دوری اختیار کرلی ہے اور کچھ دوسری جماعتوں میں بھی شامل ہوچکے ہیں ۔ اس کے باوجود قومی قیادت ملک بھر کی مختلف ریاستی یونٹوں کو اعتماد میں لینے اور ان کے سینئر اور عوامی مقبولیت رکھنے والے قائدین کو اپنی صفوں میں بنائے رکھنے کیلئے کوئی موثر حکمت عملی تیار کرنے میں ناکام ہوگئی ہے ۔ جہاں گذشتہ دنوں کچھ قائدین نے پارٹی کو خیرباد کہا تھا وہیں اب گوا میں سابق چیف منسٹر لوئی زنہو فلیرو نے بھی پارٹی سے استعفی پیش کردیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں اب پارٹی میں نئی جان پیدا ہونے کی کوئی امید نہیں ہے ۔ انہوں نے ایک اور دلچسپ ریمارک کیا ہے کہ شائد پارٹی قیادت میں عزم و حوصلہ ہی نہیں ہے کہ پارٹی میں نئی جان پیدا کرنے کے اقدامات کرے ۔ کسی لیڈر کا پارٹی سے ترک تعلق کرنا یا کسی دوسری پارٹی کے لیڈر کا پارٹی میں شمولیت اختیار کرنا ایک سیاسی عمل ہے اور یہ ہوتا رہتا ہے ۔ تاہم یہ تاثر پیدا ہونا کہ خود پارٹی قیادت صورتحال کو بہتر کرنے کے جذبہ سے عاری ہے پارٹی کی سنگین صورتحال کو ظاہر کرتا ہے ۔ اس سے دوسرے قائدین اور کارکنوں میں بھی حوصلے ٹوٹنے لگتے ہیں اور وہ بھی اپنے سیاسی مستقبل کے تعلق سے فکرمند ہوسکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا ریمارک ہے جس پر پارٹی کی مرکزی قیادت کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کا نوٹ لیتے ہوئے پارٹی کو اپنی صفوں میں استحکام پیدا کرنے کیلئے کوئی واضح اور موثر حکمت عملی تیار کرنے میں جٹ جانا چاہئے ۔ اس صورتحال کو کم از کم اب بھی قابو میں نہیں کیا گیا تو آئندہ وقتوں میں پارٹی کیلئے مشکلات اور پریشانیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔
لوئی زنہو فلیرو گوا میں کانگریس کا چہرہ کہے جاسکتے تھے ۔ وہ گذشتہ 40 برس سے کانگریس پارٹی کے ساتھ تھے ۔ انہوں نے پارٹی کے کئی اتار چڑھاو دیکھے ہیں لیکن جس مایوسی کا اظہار انہوں نے اب کیا ہے شائد ہی کسی دوسرے لیڈر نے کیا ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی ترنمول کانگریس میں شمولیت کی قیاس آرائیاں بھی ہو رہی ہیں لیکن 40 سال کی وابستگی کو ترک کرنا کسی کیلئے بھی آسان نہیں ہوتا اور خود کانگریس کو اس بات کا نوٹ لینا چاہئے اور اس کو سنجیدگی سے سمجھتے ہوئے ایسی صورتحال کے تدارک کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ سینئر قائدین میں پارٹی کے انتخابی امکانات کے تعلق سے مایوسی زیادہ اہمیت کی حامل نہیں ہوتی لیکن پارٹی کی قیادت کے عزم و حوصلے اور جوش و جذبہ پر سوال پیدا ہونا زیادہ تشویش کا باعث ہوسکتا ہے اور یہ سوال بھی کسی عام پارٹی کارکن نے نہیں اٹھایا ہے بلکہ اس لیڈر نے اٹھایا ہے جو سابق میں چیف منسٹر رہ چکا ہے اور وہ چار دہوں سے پارٹی سے وابستہ رہا ہے ۔ گوا کی طرح کیرالا میں بھی کانگریس کیلئے مشکلات کا دور شروع ہونے والا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ وہاں بھی ایک سینئر لیڈر وی وی سریدھرن نے بھی پارٹی سے استعفی پیش کردیا ہے ۔ ان کا بھی یہی تاثر تھا کہ ان کو پارٹی کی ریاستی اور مرکزی قیادت کی جانب سے اہمیت نہیں دی جا رہی ہے ۔ ان کے مشوروں کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے اور انہیںحاشیہ پر کردیا گیا ہے ۔ سینئر قائدین کے اس طرح کے ریمارکس پارٹی کے استحکام کیلئے اچھے نہیں کہے جاسکتے ۔
کانگریس میں ایک گروپ آج بھی راہول گاندھی کو ایک بار پھر صدارت سونپنے کی جدوجہد میں مصروف ہے جبکہ کچھ قائدین جو سینئر بھی ہیں اس خیال کے حامی ہیں کہ پارٹی صدر جو کوئی ہو اسے عوام اور پارٹی کے تمام قائدین کیلئے دستیاب رہنا چاہئے ۔ اس طرح پارٹی رائے کے اعتبار سے منقسم کہی جاسکتی ہے ۔ اب جبکہ آئندہ سال کئی ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں اور آئندہ عام انتخابات کی تیاریاں بھی زور پکڑ سکتی ہیں ایسے میں پارٹی کی مرکزی قیادت کو کسی فیصلے پر پہونچنے اور تمام قائدین کو اعتماد میں لے کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ صورتحال کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑنا دانشمندی نہیں ہوگی ۔