اپنی خودی کو جوسمجھا اُس نے خدا کو پہچانا
آزاد فطرتِ انساں انداز کیوں غلامانہ
میڈیا کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے ۔ میڈیا ایک ذمہ دار طبقہ کہا جاتا ہے ۔ میڈیا کو کبھی بھی کسی کا فریق بننے کی بجائے غیر جانبداری کے ساتھ حقیقت پر مبنی خبروںکی ترسیل کا کام کرنا چاہئے تاہم حالیہ برسوں میں دیکھا گیا ہے کہ ہندوستان کا نام نہاد میڈیا جو در اصل گودی میڈیا بن گیا ہے حکومت کے تلوے چاٹنے میںسب سے آگے رہنا چاہتا ہے ۔ میڈیا کی جو اصل ذمہ داریاں ہیں ان کو کہیں پس پشت ڈالتے ہوئے حکومت کی چاپلوسی اور غلامی کرنے میں یہ ادارے ایک دوسرے پر سبقت لیجانا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ عوام کو درپیش مسائل اور ان کی تکالیف کو بھی نظر انداز کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔ غیر انسانی رویہ اختیارکرتے ہوئے انتہائی مشکل ترین اور بحران کے حالات میں بھی حکومت کی واہ واہی کو ہی اپنا اصل فریضہ بنائے ہوئے ہیں۔ فی الحال ہندوستان بھر کے عوام کو ان ہزاروں طلبا کی فکر لاحق ہے جو یوکرین میں تعلیم حاصل کرنے گئے تھے ۔ یہ لوگ پڑھ لکھ کر اپنے لئے بہتر مستقبل کی تلاش میں گئے ہیں۔ کوئی تفریح کیلئے نہیں گیا ہے ۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہیں اپنے ملک ہندوستان میںتعلیم حاصل کرنے کے مواقع دستیاب نہیں ہوئے تھے ۔ کہیں سفارش نہیں تھی تو کہیں دولت نہیں تھی جس کی وجہ سے اعلی تعلیمی اداروں میں انہیں داخلے نہیںمل پائے ۔ جیسے تیسے چند لاکھ روپئے جمع کرکے یہ لوگ پرائے ملک میں تعلیم حاصل کرنے گئے تھے ۔ اب وہاں جنگ شروع ہوچکی ہے اورحالات انتہائی تباہ کن ہوگئے ہیں۔ ہندوستانی طلبا دیار غیر میںبے یار و مددگار حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دئے گئے ہیں۔ حکومت کچھ حد تک ان طلبا کو وطن واپس لانے کی مساعی کر رہی ہے لیکن اس شدت سے یہ مہم نہیںچلائی جا رہی ہے جتنی ہونی چاہئے تھی ۔ یہ طلبا چاروں طرف جنگ سے گھرے ہوئے ہیں اور ان کے آس پاس بم برسائے جا رہے ہیں۔ یہ طلبا حکومت پر اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایسے میںکچھ گودی میڈیا کے زر خرید ٹی وی اینکرس حکومت کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلانے کی بجائے خود طلبا کو ذمہ دار قراردینے اور حکومت کو اس کی ذمہ داری سے بری قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک نام نہاد نمبر ایک چینل کے رپورٹر نے یوکرین سے رپورٹ کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین میں جنگ شروع ہوجانے سے چار دن قبل ہی حکومت نے طلبا اور دوسرے ہندوستانی شہریوں کو یوکرین چھوڑ دینے کا مشورہ دیا تھا ۔ جو لوگ نہیں نکل پائے یہ ان کی اپنی غلطی ہے ۔ اس نام نہاد رپورٹر نے یہ نہیں بتایا کہ طلبا کو یوکرین چھوڑنے کا مشورہ تو دیدیا گیا تھا لیکن یوکرین سے ہندوستان تک کا ٹکٹ 23 ہزار کی بجائے 70 ہزار روپئے میں فروخت کیا جا رہا تھا ۔ بحران اور جنگ میں گھرے طلبا سے بھی نفع کمانے کی کوشش کی گئی ۔ یہاں حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ طلبا کو مفت فضائی ٹکٹ فراہم کرتے ہوئے سب سے پہلے ہندوستان منتقل کرتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا ۔ آج بھی ہزاروں طلبا و طالبات ہیں جو جنگ میں گھرے ہوئے ہیں۔ ایک ہندوستانی طالب علم کی تو وہاں جان بھی چلی گئی ۔ کرناٹک سے تعلق رکھنے والا نوجوان ضروریات کا کچھ سامان لینے کیلئے قطار میں کھڑا تھا کہ وہ حملہ کی زد میں آگیا اور اپنی جان گنوا بیٹھا ۔ ایک اور زر خرید چینل نے تو حد ہی کردی اور قومی ٹی وی پر یہ دعوی کیا کہ جو طالب علم یوکرین میں مارا گیا ہے وزیراعظم نریندر مودی نے اس سے بات کی ہے ۔ یہ غلامانہ ذہنیت کی انتہاء ہوگئی ہے اور یہ تک خیال نہیں کیا جا رہا ہے کہ ان کی ایسی حرکتوں کے نتیجہ میں عوام کے ذہنوں میں میڈیا کا کیا امیج رہ جائے گا ۔ لوگ ان چینلوں اور ان کی خبروں اور تبصروں پر یقین کرنے کو تیار نہیںرہیں گے ۔ میڈیا کا وقار داؤ پر لگ جائے گا ۔
ماضی میں بھی ایسی کچھ مثالیں ہم نے دیکھی ہیں جہاں حقیقت کے بالکل برعکس تصویر پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ جب کبھی کسی لڑکی کے ساتھ عصمت ریزی ہوتی ہے اور اس کا قتل کیا جاتا ہے تو اس کے کردار پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ اس کے گھر سے باہر نکلنے پر تنقید کی جاتی ہے ۔ حکام کو اور ارباب مجاز کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کی کوشش نہیں کی جاتی اور نہ ہی خاطیوںکو سزائیں دلانے کیلئے کوئی مہم شروع کی جاتی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا اپنی غلامانہ ذہنیت سے باہر آئے اور اپنی ذمہ داری کو سمجھے ۔ اس مقدس پیشے کے وقار کو اپنے مفاد کیلئے داؤ پر نہ لگائے اور حقیقت پر مبنی رپورٹس پیش کرنے کا فریضہ ادا کرے ۔
