ہندوستان کے جمہوری اور وفاقی طرز حکمرانی میں گورنرس ریاستوں کے سربراہ ہوتے ہیں۔ جس طرح سے صدر جمہوریہ ہند ملک کے سربراہ ہوتے ہیں ویسے ہی گورنرس ریاستوں کے سربراہ ہوتے ہیں اور ان کا عہدہ دستوری اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ اس کی بہت زیادہ عزت و وقار ہوتا ہے ۔ اس کو برقرار رکھنا اس عہدہ پر فائز ہونے والے افراد کی ذمہ داری بنتی ہے ۔ مرکز میںجس کسی پارٹی یا اتحاد کی حکومت ہوتی ہے اس کا گورنرس کے انتخاب میں اہم رول ہوتا ہے ۔ اسی طرح جس طرح مرکز میںبرسر اقتدار پارٹی ہی ملک کے صدر جمہوریہ کیلئے کسی امیدوار کا انتخاب کرتی ہے ۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ جس پارٹی نے کسی کوگورنر کے عہدہ پر فائز کیا ہو گورنر اس پارٹی کے وفادار کی طرح کام کریں یا پھر اس پارٹی سے ہمدردی ہی رکھیں۔ دستوری عہدہ پر فائز ہونے کے بعد سیاسی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ تاہم آج کے دور میں ایسا لگتا ہے کہ ملک کی کچھ ریاستوں میں گورنرس کے رول پر تنازعات پیدا ہونے لگے ہیں۔ خاص طور پر جنوبی ہند کی تین ریاستوں میں یہ صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ کیرالا ‘ ٹاملناڈو اور تلنگانہ میں یہ صورتحال ہے جہاں گورنرس کے ریاستی حکومتوں کے ساتھ تعلقات خوشگوار نہیں رہ گئے ہیں۔ اب تک کی تاریخ میں یہ دیکھا گیا ہے کہ گورنرس کے ساتھ ریاستی حکومتوں کے تعلقات بہت اچھے اور خوشگوار رہے ہیں۔ ریاستی حکومتوں کی کارکردگی پر گورنرس کی جانب سے ستائش بھی کی گئی ہے اور یہ بھی ہوا ہے کہ جب کبھی ریاستی حکومتوں کے کوئی کام مناسب نہ رہیں گورنرس نے ان کی سرزنش بھی ہے اور ان کے فیصلوںکو روکنے میں بھی انہوںنے کوئی عار محسوس نہیں کی تھی ۔ یہ روایت بہت شاندار رہی تھی اور اس کے نتیجہ میںریاستوں میں حکمرانی بہترانداز میںچلائی گئی تھی ۔ تاہم کبھی بھی ریاستی حکومتیں ہوں یا گورنرس ہوں کسی نے بھی شخصی یا ذاتی مخالفت کو اس کام کاج کی راہ میں رکاوٹ بننے کا موقع فراہم نہیں کیا تھا ۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ گذشتہ چند برسوںکے دوران اس روش اور روایت کو بھی بدلا جا رہا ہے اور اس کا اثر صورتحال پر ضرور مرتب ہوا ہے ۔
کیرالا ‘ ٹاملناڈو اور تلنگانہ میں گورنرس پر ریاستوں میں برسر اقتدار جماعتوں کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انہوںنے خود کو گورنر سے زیادہ بی جے پی کارکن کی طرح پیش کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ یہی شکایت مغربی بنگال میں بھی رہی تھی ۔ یہی شکایت دہلی میں بھی رہی تھی ۔ حکومتوں کے کام کاج میں مداخلت کا ان گورنرس پر برسر اقتدار جماعتوں کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہا ہے ۔ا ب کیرالا میں کمیونسٹ حکومت کی جانب سے ریاستی گورنرس کے اختیارات کو چیلنج کیا جا رہا ہے ۔ گورنر کے سرکاری کام کاج میں مبینہ مداخلت کرنے پر یہ حکومت ناراض ہے ۔ اسی طرح ٹاملناڈو میں ایم کے اسٹالن حکومت کا بھی الزام ہے کہ وہاں کے گورنر بھی بی جے پی کارکن کی طرح کام کر رہے ہیں اور حکومت کے کام کاج اور ترقیاتی اقدامات اور فیصلوں میں رخنہ اندازی کر رہے ہیں۔ یہی الزامات عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال بھی ماضی میں دہلی کے لیفٹننٹ گورنرس پر عائد کرچکے ہیں۔ چیف منسٹر ٹاملناڈو کا کہنا ہے کہ گورنر اس عہدہ کے لائق نہیںہیں ۔ انہیں فوری برطرف کیا جانا چاہئے ۔ دوسری جانب گورنرس کاکہنا ہے کہ ان کا عہدہ دستوری ہے اور وہ محض خاموش تماشائی بنے نہیں رہ سکتے ۔ تلنگانہ میں بھی صورتحال مختلف نہیں ہے ۔ چیف منسٹر اور گورنر کے مابین سرد مہری اور کشیدہ تعلقات سب پر عیاں ہیں اور صورتحال بہتر نہیں ہو رہی ہے ۔ ہر دو فریق اپنے اپنے موفق پر اٹل رہتے ہوئے دوسرے کو غلط قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وفاقی طرز حکمرانی میں اس طرح کے حالات اچھے نہیں کہے جاسکتے ۔ اس صورتحال کے نتیجہ میں جہاں سرکاری کام کاج پر اثر ہونے کے اندیشے ہیں وہیں گورنر جیسے دستوری عہدہ کا وقار بھی الگ سے مجروح ہو رہا ہے ۔ گورنرس کے رتبہ اور احترام سے جہاں کوئی انکار نہیں کیا جاسکتا وہیں ریاستی حکومتوںکی ذمہ داریوں سے بھی کوئی انکار نہیں ہوسکتا ۔ حکومتوں کو ریاستوں کے عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعہ منتخب کیا ہے اور ان کی اپنی اہمیت مسلمہ ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ہی فریق ایک دوسرے کے احترام اور اہمیت کو سمجھیں اور ایک دوسرے کیلئے خط فاصل کو محسوس کرتے ہوئے کام کریں تاکہ وفاقی طرز حکمرانی کی انفرادیت برقرار رہ سکے ۔
