تلنگانہ کی گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن نے اس عہدہ پر اپنے تین سال مکمل کرلئے ہیں۔ گورنر کے تین برس حالانکہ بظاہر پرسکون انداز میں گذر گئے ہیں لیکن یہ اتنے خوشگوار نہیں کہے جاسکتے جتنے عموما گورنرس کے ہوا کرتے ہیں۔ تین برس کے دوران جہاں گورنر ریاست کے عوام تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور پرجا دربار منعقد کرتے ہوئے عوام کے مسائل کی سماعت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم جہاں وہ عوام سے رابطوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں وہیں ان کے ریاستی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں رہ گئے ہیں۔ ٹی آر ایس کی ریاستی حکومت اور گورنر کے مابین اختلافات سبھی پر عیاں ہوگئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے جہاں گورنر کو اہم مواقع پر نظر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے وہیں حکومت پر گورنر اور راج بھون کی جانب سے بھی بالواسطہ تنقیدیں کی جا رہی ہیں۔ یہ صورتحال ایسی ہے جس میں گورنر اور حکومت کے مابین تعلقات استوار ہونے کی بجائے بگڑتے چلے گئے ہیں۔ فی الحال یہ صورتحال ہے کہ حکومت گورنر کے اسمبلی سے خطبہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ اسمبلی کے اجلاسوں کو غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کرنے کا اعلامیہ جاری کرنے سے گریز کرتے ہوئے یکے بعد دیگر ے سشن منعقد کرتی جا رہی ہے اور سابقہ سشن کا تسلسل قرار دیتے ہوئے گورنر کے خطبہ کی روایت کو ختم کرتی جا رہی ہے ۔ حالانکہ ہر سشن کو علیحدہ نام ضرور دیا جا رہا ہے ۔ کوئی بجٹ اجلاس ہے تو کوئی مانسون سشن ہے ۔ کوئی سرمائی سشن بھی ہو رہا ہے تاہم ان تمام کو سابقہ سشن کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے ۔ اسی طرح گورنر بھی حکومت کے رویہ پر نالاں ہوتی جا رہی ہیں اور وہ بھی بالواسطہ طور پر ہی صحیح اس روش کے خلاف رائے ظاہر کر رہی ہیں۔ حکومت اور گورنر حکمرانی اور ریاست کی سربراہی کے دو ذمہ دار ستون ہیں۔ دونوں کا ایک دوسرے کیلئے تعاون ضروری ہوتا ہے جس کے ذریعہ ریاست کے عوام کی ترقی اور بہتری کیلئے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ اسی روایت کو ہندوستان میں ہمیشہ ہی اختیار کیا گیا تھا لیکن اب یہ روایت بدلنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔
تلنگانہ ملک کی سب سے نو عمر ریاست ہے ۔ اسے وجود میں آئے محض آٹھ برس کا عرصہ ہوا ہے ۔ حکومت کی جانب سے ریاست کی ترقی کیلئے اقدامات کا دعوی تو کیا جا رہا ہے تاہم ریاست پر قرض کا بوجھ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے عوام کیلئے فلاحی اسکیمات کا اعلان ضرور ہو رہا ہے لیکن اس پر عمل آوری کے معاملہ میں صورتحال بہت زیادہ مختلف ہے ۔ عوام تک وہ ثمرات نہیں پہونچ رہے ہیں جس کے انہیںسبز باغ دکھائے جا رہے ہیں۔ حکومت کے سامنے کئی مسائل ہیں۔ مرکز کے ساتھ تعلقات بھی ریاست کیلئے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں لیکن مرکز کے ساتھ بھی تلنگانہ کے تعلقات اب خوشگوار نہیں رہ گئے ہیں۔ ابتداء میں مرکز اور تلنگانہ حکومت کے تعلقات اچھے رہے تھے ۔ ہر مسئلہ پر ایک دوسرے کی راست یا بالواسطہ تائید کی جا رہی تھی لیکن سیاسی ٹکراؤ کی کیفیت نے مرکز ۔ ریاست تعلقات میں بھی دراڑ پیدا کردی ہے ۔ اب مرکز اورریاست ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور جوابی الزامات میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گورنر کے ساتھ بھی تعلقات بہتر نہیں رہے ہیں ۔ حالانکہ تلنگانہ جیسی نئی ریاست کیلئے ضروری ہے کہ حکومت اور حکمرانی کے دیگر ستون ایک دوسرے سے تعاون و اشتراک کریں۔ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے ریاست کو ترقی کے سفر میں آگے بڑھانے کیلئے جدوجہد کریں لیکن اس اہم پہلو کو نظر انداز کردیا گیا ہے اور اختلافات کم ہونے کی بجائے بڑھتے جا رہے ہیں۔
کسی تیسرے فریق کیلئے یہ طئے کرنا مشکل ہے کہ اختلافات کے معاملہ میں پرگتی بھون کی غلطی ہے یا پھر راج بھون کی ۔ اس معاملہ کا جائزہ خود فریقین کو لینا چاہئے ۔ گورنر ریاست کی دستوری سربراہ ہیں۔ ان کی اہمیت اور افادیت اپنی جگہ مسلمہ ہے ۔ وہیں حکومت بھی عوام کے ووٹ سے منتخب ہوئی ہے ۔ عوام نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ٹی آر ایس کو حکومت سونپی ہے ۔ اس صورتحال میں دونوں ہی کیلئے ضروری ہے کہ اپنی اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کو سمجھیں۔ ریاست کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کو پیش نظر رکھتے ہوئے دستور کے مطابق فرائض کی انجام دہی کو یقینی بنائیں اور تلنگانہ کو ترقی کی راہ پر پیشرفت میں مدد کریں۔
