گورنر مہاراشٹرا کے ریمارکس

   

Ferty9 Clinic

ہوائے شہر اُڑالے گئی ہے سچائی
دروغ کی ہے یہاں آج کار فرمائی
گورنر مہاراشٹرا بھگت سنگھ کوشیاری نے متنازعہ ریمارکس کرتے ہوئے گجراتیوں اور راجستھانی عوام کی بالادستی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے ریاست مہاراشٹرا اور دارالحکومت ممبئی کے تعلق سے جو ریمارکس کئے ہیں ان سے ایک تنازعہ پیدا ہوگیا ہے ۔ گورنر کا کہنا تھا کہ اگر گجراتیوں اور راجستھانی عوام کو نکال دیا جائے تو مہاراشٹرا اور خاص طور پر ممبئی اور تھانے میںکوئی پیسہ نہیں رہ جائیگا ۔ ممبئی کو پھر ملک کا معاشی دارالحکومت نہیں کہا جاسکتا ۔ یہ تبصرہ در اصل گجراتی اور راجستھانی عوام کی بالادستی کو ثابت کرنے کے مترادف تھا اور اس کے نتیجہ میں مہاراشٹرا کے عوام کی تضحیک اور توہین ہوئی ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ مراٹھی عوام از خود کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں اور وہ اپنے شہر کو ملک کا معاشی دارالحکومت بھی برقرار نہیں رکھ پائیں گے ۔ بھگت سنگھ کوشیاری کا یہ تبصرہ ایک سیاسی تنامعہ اور طوفان کا باعث بن گیا ہے ۔ شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے اس پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مراٹھی عوام کی توہین ہے ۔ گورنر نے اس طرح سے ہندو قوم میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور اب یہ حکومت کا کام ہے کہ انہیں جیل بھیجنے یا پھر گھر واپس بھیجنے کا فیصلہ کرے ۔ خود بی جے پی کی تائید سے چیف منسٹر بننے والے ایکناتھ شنڈے نے بھی گورنر کے ریمارکس سے خود کو علیحدہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ گورنر کے ریمارکس اور تبصرے در اصل ان کی شخصی رائے ہے اور وہ ( شنڈے ) ان کی تائید نہیں کرتے ۔ شنڈے کا کہنا تھا کہ بھگت سنگھ کوشیاری ایک دستوری عہدہ پر فائز ہیں اور انہیں ایسے کوئی ریمارکس یا تبصرے نہیں کرنے چاہئیں جن کے نتیجہ میں دوسروں کی توہین یا ہتک ہوتی ہو ۔ یقینی طور پر دستوری عہدہ پر فائز افراد کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہئے ۔ انہیں کسی بھی ریاست یا کسی بھی علاقہ کے عوام کو نیچا دکھانے یا ان کی تضحیک کرنے یا کسی اور علاقے کے عوام کی بلادستی ثابت کرنے جیسے ریمارکس نہیں کرنے چاہئیں۔ اس طرح سے سماج میں یکجہتی اور اتحاد کی بجائے دوریاں اور نفرتیں پیدا ہوتی ہیں جو ہمارے معاشرہ کیلئے ٹھیک نہیں ہے ۔
گورنر کا عہدہ دستوری اہمیت کا حامل ہے اور اس پر فائز افراد کو انتہائی ذمہ داری کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ گورنر اپنی ریاست کے سربراہ ہوتے ہیں اور ان کیلئے اپنی ریاست اور ریاستی عوام کے مفادات کا تحفظ اہمیت کا حامل ہونا چاہئے ۔ ریاست کی ترقی اور اس کی نیک نامی کو یقینی بنانے کیلئے بھی گورنر کو اہم ذمہ ادا کرنا ہوتا ہے تاہم اگر خود اپنی ریاست کے تعلق سے کوئی گورنر اس طرح کے ریمارکس کرتے ہیں تو یہ انتہائی افسوسناک کہا جاسکتا ہے ۔ حالانکہ بھگت سنگھ کوشیاری نے اپنی جانب سے وضاحت بھی کردی ہے لیکن جس طرح کے ریمارکس انہوں نے کئے تھے ان کی وجہ سے تنازعہ پیدا ہوگیا تھا ۔ شیوسینا کو ان ریمارکس کی وجہ سے بی جے پی اور گورنر کے علاوہ ریاستی حکومت کو بھی نشانہ بنانے کا موقع مل گیا ہے ۔ اس کے ذریعہ مہاراشٹرا کے عوام میں بھی ایک طرح کی بے چینی پیدا ضرور ہوئی ہے اور وہ بھی ان ریمارکس کی وجہ سے بالواسطہ طور پر تضحیک محسوس کر رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ممبئی ملک کا سب سے بڑا معاشی مرکز ہے ۔ وہاں صرف گجراتی یا صرف راجستھانی باشندے ہی کاروبار نہیں کرتے ۔ یہاں ملک کے کونے کونے سے لوگ آ کر بستے ہیں۔ وہاں وہ اپنی تجارت کرتے ہیں۔ کاروبار کرتے ہیں۔ روزی روٹی حاصل کرتے ہیں۔ زندگی گذارنے کے وسائل حاصل کرتے ہیں اور پھر ممبئی ہی کو اپنا گھر بنالیتے ہیں۔ صرف گجراتیوں یا صرف راجستھانی باشندوں کی وجہ سے ممبئی کی معاشی اہمیت نہیںہے ۔
ملک کی دوسری ریاستوں سے تعلق رکھنے والے باشندے بھی ممبئی میں ہیں ۔ وہ بھی ممبئی کی اور مہاراشٹرا کی ترقی میں برابر کا حصہ ادا کرتے ہیں۔ ممبئی کی ترقی میں ملک کے ہر گوشے سے تعلق رکھنے والے باشندوں کے رول کے باوجود مراٹھی عوام اپنے کلچر اور اپنے وقار کو اور اپنی علیحدہ شناخت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہ سب کچھ انہیں بہت زیادہ عزیز بھی ہے ۔ ہر ریاست کے عوام کو اپنی اپنی ریاست کا کلچر اور شناخت عزیز ہوتی ہے ۔ گورنر ہوں یا پھر کوئی اور اہم اور دستوری عہدہ پر فائز افراد ہوں انہیں ان تمام باتوں کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کسی بھی طبقہ کا علاقہ کے عوام کے جذبات کو مجروح کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ ذمہ دار عہدوں پر فائز افراد کو تو اس کا خاص طور پر خیال رکھنا پڑتا ہے ۔ ہر دستوری عہدہ کا وقار برقرار رکھنا پر اس پر فائز فرد کی ذمہ داری ہوتی ہے اور یہ پوری کی جانی چاہئے ۔
بہار اتحادی جماعتوں میں دوریاں؟
بہار میں نتیش کمار کی قیادت والی جے ڈی یو اور بی جے پی کے درمیان دوریاں اور کشیدگی پیدا ہونے لگی ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ کشیدگی میںاضافہ ہوتا جا رہا ہے اور بی جے پی کے ریاستی قائدین کی جانب سے حکومت اور اس کے اقدامات کو راست یا بالواسطہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تنقیدیں کی جا رہی ہیں حالانکہ خود بی جے پی بہار حکومت میں حصہ دار ہے ۔ کئی وزراء کا بی جے پی سے تعلق ہے ۔ ان اختلافات کی ایک جھلک آج اس وقت دیکھنے میں آئی جبکہ بی جے پی کے صدر جے پی نڈا نے پٹنہ یونیورسٹی کا دورہ کیا ۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کی جانب سے جے پی نڈا کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور واپس جاؤ کے نعرے بھی لگائے گئے ۔ اس واقعہ کو بی جے پی کی جانب سے سکیوریٹی کی کوتاہی قرار دیا جا رہا ہے حالانکہ سکیوریٹی کا ذمہ نتیش کمار حکومت کا ہے ۔ اس طرح بی جے پی نے اپنی ہی حلیف جماعت اور اپنی ہی حصہ داری والی حکومت کو نشانہ بنایا ہے ۔بی جے پی ریاستی یونٹ اس اتحاد سے مطمئن نظر نہیںآتی حالانکہ مرکزی قیادت اپنی سیاسی مصلحت کی وجہ سے اتحاد برقرار رکھے ہوئے ہے ۔ نتیش کمار بھی کئی مسائل پر مرکزی حکومت اور بی جے پی سے اختلاف کر رہے ہیں۔ اپنے اختلاف کو چھپانے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں بلکہ سر عام اظہار خیال کر رہے ہیں۔ یہ کہا جارہا ہے کہ اس اتحاد میں سب کچھ ٹھیک نہیںہے تاہم دونوں ہی حصہ دار جماعتیں اپنی اپنی سیاسی مجبوریوں اور مصلحتوں کی وجہ سے اتحاد کو برقرار رکھی ہوئی ہیں۔ یہ اختلافات اور ناراضگیاں کس وقت کسی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہونگی یہ ابھی کہا نہیں جاسکتا۔