کشیدگی میں بظاہر کمی، حکومت نے چین کی سانس لی، بلز کی منظوری پر نظر
حیدرآباد 3 فروری (سیاست نیوز) راج بھون اور پرگتی بھون کے درمیان گزشتہ ایک سال سے جاری کشیدہ ماحول آج گورنر ڈاکٹر پی سوندرا راجن کے اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بعد عملاً ختم ہوگیا۔ گورنر کے خطبہ پر حکومت نے اطمینان کی سانس لی ہے۔ بجٹ سیشن کے اعلان کے ساتھ ہی راج بھون متحرک ہوگیا تھا اور گورنر نے ریاستی بجٹ کو منظوری کے بغیر روک دیا۔ جس کے بعد ہائیکورٹ کی ایماء پر تنازعہ کی یکسوئی ہوئی اور حکومت نے گورنر کے خطبہ سے سیشن کے آغاز سے اتفاق کیا تھا۔ گورنر کی تقریر کے دوران سرکاری حلقوں میں تجسس تھا کیوں کہ اِس بات کا اندیشہ تھا کہ گورنر حکومت کی تیار کردہ تقریر میں تبدیلیاں کرسکتی ہیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔ گورنر نے جو کل تک حکومت کی کارکردگی کو نشانہ بنارہی تھیں، آج اپنے خطبہ کے ذریعہ حکومت کی تعریفوں کے پُل باندھ دیئے۔ حالات کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ سیاسی صورتحال بھی تبدیل ہوتی ہے۔ برسر اقتدار پارٹی کے ارکان کو اندیشہ تھا کہ گورنر حکومت کے تیار کردہ خطبہ میں تبدیلیاں کرسکتی ہیں لیکن خطبہ کے بعد یہ سوال ابھی بھی برقرار ہے کہ کیا گورنر واقعی تبدیل ہوگئیں؟ کیا وہ حکومت کے 7 زیرالتواء بلز کو منظوری دیں گی؟ 6 ماہ سے زائد عرصہ سے اسمبلی میں منظورہ بلز گورنر کے پاس زیرالتواء ہیں۔ گورنر نے حکومت کی جانب سے تیار کردہ خطبہ کو من و عن پڑھتے ہوئے مزید کسی تنازعہ سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ بیشتر اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ گورنر کا خطبہ عام انداز کا ہے اور اُس میں کوئی نئی بات نہیں۔ ر