گورنر کوٹہ کی 2 ایم ایل سی نشستوں کیلئے بی آر ایس میں سرگرمیاں تیز

   

اقلیتی طبقہ کے کئی دعویدار، اسمبلی انتخابات کے پیش نظر فیصلہ کرنے میں کے سی آر کو دشواری
حیدرآباد۔/16 مئی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں گورنر کوٹہ کی 2 ایم ایل سی نشستوں پر نامزدگی کیلئے بی آر ایس میں خواہشمند قائدین کی سرگرمیاں تیز ہوچکی ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر اندرون ایک ہفتہ دونوں نشستوں پر امیدواروں کا فیصلہ کرلیں گے۔ گورنر کوٹہ کی ایم ایل سی نشستوں پر ڈی راجیشور راؤ اور فاروق حسین کی میعاد جاریہ ماہ ختم ہورہی ہے۔ دونوں کا تعلق عیسائی اور مسلم طبقہ سے ہے لہذا انہوں نے دوبارہ نامزدگی کیلئے مہم کو تیزکردیا ہے۔ دونوں عہدوں کیلئے پارٹی میں تقریباً 20 سے زائد دعویدار بتائے جاتے ہیں جنہوں نے چیف منسٹر کے سی آر کو مختلف ذرائع سے نمائندگی تیز کردی ہے۔ ڈسمبر میں اسمبلی انتخابات اور پھر آئندہ دو برسوں تک قانون سازکونسل کی نشستوں کی عدم دستیابی کے سبب مخلوعہ دو نشستوں کیلئے کئی دعویدار میدان میں ہیں۔ گورنر نے سابق میں کوشک ریڈی کی امیدواری کو مسترد کردیا تھا کیونکہ ان کے خلاف کریمنل کیسس درج تھے۔ چیف منسٹر کے سی آر دونوں نشستوںکیلئے امیدواروں کے نام کے بارے میں احتیاط سے کام لے رہے ہیں تاکہ گورنر سے دوبارہ ٹکراؤ کی صورتحال پیدا نہ ہو۔ چیف منسٹر گورنر کوٹہ کے تحت غیر سیاسی افراد کو نامزد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن پارٹی کے سینئر قائدین نے اس کی مخالفت کی۔ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ایک نشست مسلم امیدوار کو الاٹ کرنے کا امکان ہے کیونکہ سابق میں جناب فرید الدین مرحوم کی مخلوعہ نشست پر کسی مسلمان کو نامزد نہیں کیا گیا تھا۔ اگر اس مرتبہ بھی مسلمان کو نظرانداز کیا گیا تو انتخابات میں مسلمانوں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق فاروق حسین نے دوبارہ نامزدگی کیلئے ہریش راؤ اور دیگر وزراء کے ذریعہ چیف منسٹر تک اپنی نمائندگی کو پہنچایا ہے۔ ایم ایل سی نشست کے دیگر مسلم دعویداروں میں صدرنشین اردو اکیڈیمی ایم کے مجیب الدین، صدرنشین حج کمیٹی محمد سلیم، صدرنشین وقف بورڈ مسیح اللہ خاں اور اضلاع سے تعلق رکھنے والے بعض قائدین کے نام پارٹی اور حکومت کے حلقوں میں زیر گشت ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دوسری نشست کیلئے سابق رکن اسمبلی بھکشمیا گوڑ، سابق ایم ایل سی کے پربھاکر، کے وینکٹیشور راؤ، ٹی ناگیشور راؤ اور دوسرے شامل ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ چیف منسٹر گورنر کوٹہ کے تحت غیر سیاسی افراد کو ترجیح دیں گے یا پھر پارٹی قائدین کے دباؤ کے تحت سیاسی قائدین کو نامزدکریں گے۔ ایم ایل سی نشستوں کیلئے قائدین کی سرگرمیاں اس اعتبار سے بھی اہمیت کی حامل ہیں کہ مارچ 2025 تک ایم ایل سی کی نشستیں دستیاب نہیں ہیں۔ 2025 میں 8 ارکان کونسل کی میعاد ختم ہوگی۔ر