گورنمنٹ اقامتی اسکولس میں ’ ننھے ڈاکٹرس ‘ کورونا کی وبا سے طلبہ کو محفوظ رکھنے کے لیے حکومت کا فیصلہ

   

حیدرآباد ۔ 2 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : ریاست کے گورنمنٹ ریسیڈنشیل اسکولس میں کورونا پر نظر رکھنے کے لیے طلبہ کو ڈاکٹر بنایا جارہا ہے ۔ حالیہ دنوں میں گورنمنٹ کے ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتی اقامتی اسکولس میں طلبہ کے کورونا سے متاثر ہونے کے واقعات پیش آئے ہیں ۔ جس کے بعد حکام متحرک ہوگیا ہے ۔ اقامتی اسکولس میں زیر تعلیم طلبہ کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے اب کلاس کے ایک ہوشیار طالب علم یا طالبہ کو ’ ننھا ڈاکٹر ‘ کے طور پر پروموٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ننھا ڈاکٹر کے لیے جس کا بھی انتخاب کیا جارہا ہے ۔ اس کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ کلاس کے بچوں پر نظر رکھیں ۔ آیا وہ کھانسی ، بخار ، سردی زکام سے متاثر تو نہیں ہے ۔ کوئی طالبہ یا طالب علم ان علامتوں میں مبتلا ہے تو اس کی فوری اسکول کے پرنسپل ، سائنس ٹیچر اور پی ای ٹی کو اطلاع دیں ۔ جس پر اسکول کے انتظامیہ کی جانب سے اس کی پرائمری ہیلت سنٹر کو اطلاع دیتے ہوئے طلبہ کا علاج کرایا جائے گا ۔ اگر طلبہ میں کورونا کی علامتیں پائی گئی تو انہیں گھر روانہ کیا جائے گا یا اسکول میں ہی ایک آئیسولیشن روم میں رکھ کر علاج کیا جائے گا ۔ حال ہی میں ریاست کے مختلف مقامات پر اقامتی اسکولس کے کئی طلبہ کی صحت متاثر ہوئی ہے ۔ کئی طلبہ کا کورونا ٹسٹ کا نتیجہ پازیٹیو برآمد ہوا ہے ۔ جس کے بعد حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کئی طلبہ سردی ، بخاری ، کھانسی سے متاثر ہونے کے باوجود انہیں گھر روانہ کردینے کے ڈر سے نہیں بتا رہے ہیں جس کی وجہ سے ساتھی طلبہ کو ڈاکٹر کے طور پر پروموٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔۔ ن