مکان کے انہدام کو روکنے ایک خاتون کا اقدام خود کشی ۔ پولیس کی جانب سے خاتون کے شوہر پر ہی مقدمہ درج
حیدرآباد 9 جولائی (سیاست نیوز) سماج میں پولیس کی موجودگی عام شہریوں کیلئے راحت اور غنڈہ و غیر سماجی عناصر کیلئے خوف کا باعث ہوتی ہے لیکن گریٹر حیدرآباد میں ایک علاقہ ایسا ہے جہاں پولیس کی موجودگی عام شہریوں کیلئے زحمت اور غیر سماجی عناصر کیلئے رحمت ثابت ہورہی ہے۔ فرینڈلی پولیسنگ کے دعویداروں کیلئے یہ واقعہ یقینا حیرت کا باعث ہوگا کہ ان کے ماتحت عہدیدار کس قدر فرینڈلی پولیسنگ کی دھجیاں اُڑارہے ہیں اور پولیس کی مبینہ پشت پناہی سے غنڈہ عناصر کے حوصلے کس طرح بلند ہیں۔ سائبرآباد جیسے پولیس کمشنریٹ حدود کے گچی باؤلی پولیس حدود میں اس طرح کا ایک واقعہ پیش آیا جو پولیس کی فرینڈلی پولیسنگ پر سوال پیدا کرتا ہے جہاں ایک خاتون نے اپنے مکان کو بچانے پولیس کی موجودگی میں زہریلی دوا کا استعمال کرلیا۔ یاسمین نامی اس خاتون کو اس کے رشتہ داروں نے ہاسپٹل منتقل کیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ تاج نگر، این ٹی آر نگر اور صففہ کالونی جو گوپن پلی علاقہ میں آتے ہیں یہاں کے عوام کی درد بھری داستانیں ہیں۔ یاسمین پہلی خاتون نہیں ہے جس نے اپنے مکان کو بچانے کی خاطر اس طرح کا اقدام کیا۔ سابق میں ایک متاثرہ خاتون نے ڈی جی پی آفس کے روبرو خودکشی کی کوشش کی تھی
اور چند روز قبل بھی ایک خاتون نے پولیس کی مبینہ زیادتی سے تنگ آکر اس طرح کا اقدام کیا تھا۔ جس وقت یاسمین نے نامعلوم زہریلی دوا کا استعمال کرلیا اُس وقت پولیس موجود تھی جو خاموش تماشائی بنی تھی اور خاتون کو خودکشی کے اقدام سے روکنے کی بجائے باضابطہ اس کا ویڈیو لے رہی تھی۔ چیخ و پکار کرکے خاتون سڑک کے دونوں جانب مدد کیلئے پکار رہی تھی اور لینڈ گرابرس کی نشاندہی کررہی تھی۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اراضی معاملات کو سیول تنازعات کہنے والی پولیس چند عام شہریوں کے ساتھ اس علاقہ میں موجود تھی جو صفہ کالونی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مبینہ طور پر پولیس لینڈ گرابرس کی پشت پناہی کررہی تھی ۔ یاسمین کا کہنا ہے کہ پولیس لینڈ گرابرس کے ہمراہ ان کے مکان کو منہدم کرنے پہونچی تھی۔ خاتون کی چیخ و پکار اور تڑپ پر اس کی لڑکی نے اسے روکنے کی ہر ممکنہ کوشش کی تاہم یاسمین نے فینائیل کا استعمال کرلیا۔ یہ سب پولیس کی موجودگی اور عملاً نگرانی میں ہورہا تھا۔ شہر کے کسی علاقہ میں اقدام خودکشی کرنے والوں کو پولیس اپنے کندھوں پر لاد کر بچا لیتی ہے تو کہیں پولیس اپنی نظروں کے سامنے خودکشی کیلئے عملاً مجبور کردیتی ہے۔ یاسمین کا انتہائی اقدام یقینا فرینڈلی پولیسنگ کیلئے سنجیدہ عہدیداروں اور دن رات محنت کرکے اس مشن کو کامیاب بنانے میں مصروف ملازمین پولیس کیلئے حیرت ناک ہوگا۔ بعدازاں گچی باؤلی پولیس کی جانب سے ایک بیان جاری کرکے یاسمین سلطانہ کے شوہر نواز کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ پولیس گچی باؤلی نے بتایا کہ گونجی پاولو کی شکایت پر نواز اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ گوپن پلی علاقہ کے لینڈ گرابر اور درمیانی افراد کو پولیس کی پشت پناہی حاصل ہے جو راست اعلیٰ عہدیداروں سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ان کی ان سرگرمیوں سے مقامی پولیس ملازمین بھی تنگ ہے جو اعلیٰ عہدیداروں کی مبینہ پشت پناہی سے پولیس ملازمین کو اپنے اشاروں پر کام کرنے کے لئے مجبور کرتے ہیں اور اس علاقہ میں کسی بھی قسم کی سرگرمی ان کے اشاروں اور مرضی کی محتاج ہوتی ہے۔
