گچی باؤلی اراضی تنازعہ ، درختوں کی کٹوائی پر سپریم کورٹ کی برہمی

   

جنگلاتی زندگی کا تحفظ کرنے وائیلڈ لائف وارڈن کو ہدایت، مرکزی کمیٹی کی رپورٹ پیش، آئندہ سماعت 15 مئی کو ہوگی

حیدرآباد۔/16 اپریل، ( سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے کنچہ گچی باؤلی اراضی معاملہ کی سماعت کو 15 مئی تک ملتوی کردیا۔ اسی دوران سنٹرل امپاورمنٹ کمیٹی نے اراضی کا معائنہ کرنے کے بعد سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔ عدالت نے کمیٹی کی رپورٹ پر حکومت کو موقف پیش کرنے کیلئے 4 ہفتوں کی مہلت دی ہے۔ جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس آگسٹائن جارج مسیح پر مشتمل بنچ نے تلنگانہ کے وائیلڈ لائف وارڈن کو ہدایت دی ہے کہ 100 ایکر اراضی پر جنگل کی صفائی سے متاثر ہونے والے جنگلی جانوروں کا تحفظ کرنے کے اقدامات کریں۔ عدالت نے درختوں کی کٹوائی پر ناراضگی جتائی اور بڑی تعداد میں یونیورسٹی سے متصل جنگلاتی علاقہ کی صفائی سے ماحولیات کو نقصان کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح کردیا کہ وہ ماحولیات اور جنگلات کے تحفظ کیلئے سخت ہدایات دے سکتا ہے۔ جسٹس بی آر گوائی نے درختوں کی کٹوائی کے معاملہ میں حکومت کی عجلت کے بارے میں سوال کیا۔ جسٹس گوائی نے کہا کہ حکومت کو منصوبہ کے ساتھ عدالت میں پیش ہونا ہوگا کہ 100 ایکر پر درختوں کو کس طرح بحال کیا جائے گا۔ تلنگانہ حکومت کے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی کو عدالت نے حکومت کا موقف پیش کرنے کی ہدایت دی۔ جسٹس گوائی نے کہا کہ عدالت العالیہ کو اُن ویڈیوز کو دیکھنے کے بعد حیرت ہوئی جس میں جانوروں کو پناہ گاہ کی تلاش میں دوڑتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ ماحولیات اور جنگلات کے تحفظ کیلئے ہم حکومت کو پابند کریں گے۔ آئندہ سماعت 15 مئی کو مقرر کرتے ہوئے عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ علاقہ میں ایک بھی درخت کو کاٹا نہ جائے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے کنچہ گچی باؤلی علاقہ کی اراضی کے مسئلہ پر 3 اپریل کو از خود کارروائی کرتے ہوئے اس معاملہ کا سنگین نوٹ لیا تھا۔ یونیورسٹی آف حیدرآباد کے علاوہ جہد کاروں نے مفاد عامہ کی درخواستیں داخل کرتے ہوئے 400 ایکر اراضی کو جنگلاتی قرار دیا جبکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ سرکاری ہے۔ جسٹس بی آر گوائی نے سماعت کے دوران درختوں کی کٹوائی پر برہمی کا اظہار کیا اور حکومت کو ہدایت دی کہ وہ درختوں کی بحالی کا منصوبہ پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیات کے تحفظ کے مسئلہ پر کوئی مفاہمت نہیں کی جائے گی۔ درختوں کی کٹوائی کے مسئلہ پر ریاست کے چیف سکریٹری اور دیگر متعلقہ عہدیدار جیل جاسکتے ہیں۔ حکومت کو 100 ایکر اراضی پر درختوں کی بحالی کا منصوبہ پیش کرنا چاہیئے۔ عدالت نے اس بات پر ناراضگی جتائی کہ سابق میں واضح احکامات کے باوجود علاقہ میں حکومت کے بلڈوزر موجود ہیں۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آرٹیفیشل انٹلیجنس کے ذریعہ تیار کردہ بوگس ویڈیوز کو سوشیل میڈیا میں وائرل کیا جارہا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ علاقہ میں کوئی کام انجام نہیں دیا جارہا ہے اور عدالت کے احکامات پر عمل کیا گیا۔ جوں کا توں موقف برقرار رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے آئندہ سماعت 15 مئی کو مقرر کی گئی اور حکومت کو جواب داخل کرنے کیلئے چار ہفتوں کا وقت دیا گیا ہے۔1