گچی باؤلی اراضی تنازعہ پر ہائیکورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست

   

کارگذار چیف جسٹس آج سماعت کریں گے، حکومت اور یونیورسٹی کے درمیان 400 ایکر کا تنازعہ
حیدرآباد ۔ یکم اپریل (سیاست نیوز) حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی اراضی کا تنازعہ ہائیکورٹ تک پہونچ چکا ہے۔ کنچا گچی باؤلی علاقہ کی اراضی کے تحفظ کے لئے مفاد عامہ کی درخواست دائر کی گئی۔ ایک خانگی ادارہ نے اپنی درخواست میں ہائیکورٹ سے اپیل کی کہ 400 ایکر اراضی کو نیشنل پارک قرار دیا جائے۔ درخواست گذار کے وکلاء نے مسئلہ کی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے عاجلانہ سماعت کی درخواست کی۔ ہائیکورٹ نے چہارشنبہ کو سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی 400 ایکر اراضی کو سرکاری قرار دیتے ہوئے تلنگانہ حکومت خانگی کمپنیوں کو آکشن کے ذریعہ فروخت کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یونیورسٹی کے طلبہ اور اپوزیشن پارٹیاں اِس تجویز کی مخالفت کررہی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ اراضی سرکاری نہیں بلکہ یونیورسٹی کی ہے۔ کارگذار چیف جسٹس سجے پال کی زیرقیادت بنچ پر چہارشنبہ کو درخواست کی سماعت ہوگی اور حکومت کی جانب سے اراضی سے متعلق کسی بھی کارروائی کا انحصار عدالت کے فیصلہ پر رہے گا۔ حکومت کی جانب سے اراضی کے آکشن کی کوششوں کے آغاز کے ساتھ ہی طلبہ تنظیموں کی جانب سے روزانہ احتجاج منظم کیا جارہا ہے اور یونیورسٹی کے اطراف صورتحال کشیدہ ہے۔ واضح رہے کہ 2004 ء میں اُس وقت کے چیف منسٹر چندرابابو نائیڈو نے کنچا گچی باؤلی کی 400 ایکر اراضی آئی ایم جی کمپنی کے حوالہ کیا تھا۔ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت نے آئی ایم جی کمپنی کو بوگس قرار دیتے ہوئے اراضی کے الاٹمنٹ کو منسوخ کردیا تھا۔ آئی ایم جی کمپنی نے حکومت کے احکامات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور 21 سال کی طویل قانونی جدوجہد کے بعد سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کے حق میں فیصلہ سنایا جس کے بعد ریونت ریڈی حکومت نے تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کے ذریعہ صنعتی اداروں کو اراضی آکشن کے ذریعہ الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بی آر ایس، بی جے پی حتیٰ کہ بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی حکومت کے فیصلہ کی مخالفت کی ہے۔1