گڈی انارم فروٹ مارکٹ انہدامی کارروائی روک دی جائے :ہائی کورٹ

   

احکامات کی خلاف ورزی پر برہمی، مارکیٹنگ عہدیداروں کی 14 مارچ کو عدالت میں طلبی
حیدرآباد۔/8 مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکومت کو ہدایت دی کہ گڈی انارم فروٹ مارکٹ کا انہدام فوری روک دیا جائے۔ حکومت کی جانب سے کل رات سے مارکٹ کی انہدامی کارروائی کا آغاز کیا گیا جس پر تاجرین نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ چیف جسٹس ستیش چندر شرما کی زیر قیادت ڈیویژن بنچ نے انہدامی کارروائی کے طریقہ کار پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ عدالت نے 8 فروری کو حکومت کو ہدایت دی تھی کہ تاجرین کی جانب سے باٹا سنگارم منتقلی کیلئے مہلت دے کر ایک ماہ تک گڈی انارم مارکٹ کھولنے کی اجازت دی جائے۔ حکومت نے عدالت کے احکامات پر عمل آوری نہیں کی۔ ہائی کورٹ کی جانب سے اس سلسلہ میں برہمی کے بعد 4 مارچ کو فروٹ مارکٹ کو ہنگامی طور پر کھول دیا گیا تھا۔ تاجروں کی جانب سے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 8 فروری کے احکام کے باوجود 4 مارچ تک مارکٹ میں کاروبار کی اجازت کی بجائے انہدامی کارروائی شروع کردی گئی جو ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ تاجروں کے وکیل گنگیا نائیڈو نے عدالت کو بتایا کہ سینکڑوں پولیس ملازمین کی نگرانی میں آدھی رات سے انہدامی کارروائی شروع کی گئی جس کی تفصیلات عدالت میں پیش کی گئیں۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گڈی انارم کے 106 کمیشن ایجنٹس میں 76 نے تخلیہ کردیا ۔ عدالت نے توہین عدالت معاملہ کی سماعت 14 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل سکریٹری رگھونندن راؤ اور ڈائرکٹر لکشمی بائی کو شخصی طور پر حاضر عدالت ہونے کی ہدایت دی۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے دی گئی مہلت دو دن قبل ختم ہوگئی جس کے بعد انہدامی کارروائی شروع کی گئی۔ اس اراضی پر حکومت سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حکومت نے فروٹ مارکٹ کو شہر کے مضافاتی علاقہ باٹا سنگارم لاجسٹک مارکٹ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کوہیڈا میں مستقل طور پر مارکٹ کی تعمیر کا کام مکمل ہونے تک باٹا سنگارم میں فروٹ کا کاروبار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ انہدامی کارروائی کے خلاف عدالت سے رجوع ہونے پر تاجرین کو راحت ملی۔ ر