حیدرآباد۔5۔جولائی (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کے محکمہ زراعت نے گڈی ملکا پور ترکاری اور پھول مارکٹ کو اب شہر سے باہر کرنے کی تیاریاں کرلی گئی ہیں اور حکومت تلنگانہ نے گڈی ملکا پور مارکٹ کو عزیز نگر میں سروے نمبر 176 میں موجود 42 ایکڑ اراضی پر انٹگریٹڈ مارکٹ قائم کرنے کو منظوری دینے کے اقدامات شروع کئے ہیں۔ پیشرو حکومت نے کتہ پیٹ سے فروٹ مارکٹ کو منتقل کرنے کے اقدامات کئے تھے اور اس مارکٹ میں موجود پھلوں کے ٹھوک تاجرین کو کتہ پیٹ سے کوہیڈا منتقل کرنے کے اقدامات کئے گئے تھے اور ان میں بعض تاجرین نے درگاہ بابا حضرت شرف الدین ؒ کے تحت موجود موقوفہ اراضی سیاسی نمائندگیوں کے ذریعہ حاصل کرتے ہوئے پہاڑی شریف کے قریب مارکٹ کے قیام کی منظوری حاصل کی تھی لیکن اب تک بھی اس مارکٹ کو شروع نہیں کیاجاسکا اور نہ ہی اس موقوفہ اراضی کا کوئی کرایہ وصول ہورہا ہے اور اب بیشتر تاجرین کوہیڈا فروٹ مارکٹ سے ہی کاروبار کرنے لگے ہیں۔ فروٹ مارکٹ کی معظم جاہی مارکٹ سے کتہ پیٹ اور کتہ پیٹ سے کوہیڈا منتقلی کے بعد محکمہ زراعت نے گڈی ملکا پورمیں 1991 میں قائم کی گئی اس ترکاری اور پھول کی مارکٹ کو منتقل کرنے کے اقدامات کا آغاز کیا ہے اور کہا جارہا ہے کہ اس سلسلہ میں زرعی مارکٹ کمیٹی نے اقدامات بھی شروع کردیئے ہیں لیکن اس مارکٹ کو شہر سے باہر منتقل کرنے کے نتیجہ میں ہزاروں افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ اس پھول مارکٹ اور ترکاری کے مارکٹ سے روزانہ لاکھوں افراد استفادہ حاصل کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں زائد10 ہزار افراد کا روزگار اس مارکٹ سے مربوط ہے لیکن ریاستی حکومت اور زرعی کمیٹی کی جانب سے کئے جانے والے فیصلہ کے متعلق کہا جارہاہے کہ گڈی ملکا پور اور مہدی پٹنم کے علاقہ میں ٹریفک جام کی شکایات کی بنیاد پر مارکٹ کی منتقلی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاجرین کا کہناہے کہ مارکٹ کو عزیز نگر منتقل کئے جانے کے نتیجہ میں نہ صرف چلر فروش تاجرین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ راست خریدی کرنے والے گاہکوں کے لئے بھی مشکلات شروع ہوجائیں گی علاوہ ازیں عزیز نگر میں منتقلی کے اقدامات میں وقت بھی لگے گا ۔ گڈی ملکا پور پھول مارکٹ اور ترکاری مارکٹ کی عزیز نگر منتقلی کی بیرسٹر اسد الدین اویسی نے مخالفت کرتے ہوئے اس اقدام کو جنوب مغربی حیدرآباد کے لئے نقصاندہ قرار دیا اور اس فیصلہ کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی سے اپیل کی کہ وہ اس فیصلہ سے دستبرداری اختیار کریں۔ فروٹ مارکٹ کی کوہیڈا منتقلی کی بھی مجلس اتحاد المسلمین نے شدید مخالفت کرتے ہوئے فروٹ کے بعض تاجرین کو پہاڑی شریف کے دامن میں موجود قیمتی وقف اراضی مختص کرواتے ہوئے ’منی فروٹ مارکٹ‘ کے قیام کا سنگ بنیاد رکھا تھا لیکن اس موقوفہ جائیداد پر مارکٹ کے قیام کو یقینی نہیں بنایا جاسکا ہے۔3