دل بھی چپ ہے لب بھی چپ ہے دونوں کی انا بھی حائل ہے
راہ سخن کو اب تو فضا بھی خواب سہانا جانے ہے
کانگریس پارٹی کیلئے داخلی صورتحال ایسا لگتا ہے کہ بہتر ہونے کی بجائے مزید ابتر ہوتی جا رہی ہے ۔ پارٹی کی جانب سے بھلے ہی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ عوام سے رابطے بحال کرنے کیلئے یاترائیں کی جا رہی ہیں۔ راہول گاندھی مسلسل پیدا یاترا کے ذریعہ پارٹی کے موقف کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عوامی تائید حاصل کرنے کی مساعی کی جا رہی ہے تاہم راجستھان ایک ایسی ریاست بن گئی ہے جو کانگریس کیلئے مسلسل درد سر بنتی جا رہی ہے ۔ پارٹی کی جانب سے صورتحال پر قابو پانے کی کوششیں ہوتی رہتی ہیں اس کے باوجود وہاں حالات بہتر ہونے کی بجائے بگڑتے ہی جا رہے ہیں۔ چیف منسٹر اشوک گہلوٹ اور سابق ڈپٹی چیف منسٹر سچن پائلٹ کے آپسی اختلافات کی وجہ سے پارٹی کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ اختلافات ڈھکے چھپے تھے اور بالواسطہ طور پرا لزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ چل رہا تھا ۔ ایک دوسرے پر تنقیدیں ہو رہی تھیں ایک طرح کی سرد جنگ تھی جو ایسا لگتا ہے کہ اب منظر عام پر آگئی ہے ۔ کانگریس پارٹی کے صدارتی انتخاب کے دوران جب اشوک گہلوٹ کو پارٹی صدر بننے کی پیشکش کی گئی اور ایک شخص ۔ ایک عہدہ کا اصول لاگو کرنے کی بات کی گئی تو گہلوٹ نے عملا بغاوت کردی ۔ پارٹی ارکان اسمبلی کا علیحدہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے پارٹی ہائی کمان کے خلاف موقف اختیار کرلیا ۔ اس وقت تک سچن پائلٹ کا کوئی رول نہیں تھا ۔ انہوں نے پارٹی ہائی کمان سے جو کچھ بات کرنی تھی کی تھی لیکن راست طورپر وہ ان معاملات مخل نہیں ہوئے تھے ۔ اشوک گہلوٹ ایسا لگتا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کو اقتدار سونپنے تیار ہیںلیکن وہ سچن پائلٹ کو چیف منسٹر بنتے نہیں دیکھنا چاہتے ۔ اسی لئے انہوں نے کانگریس کی صدارت کے عہدہ کو بھی ترک کردیا لیکن راجستھان کے چیف منسٹر بنے رہے ہیں۔ انہوں نے پارٹی ارکان اسمبلی کو ہائی کمان کے خلاف تک استعمال کیا اور انہیںعملا بغاوت کیلئے اکسایا تھا ۔پائلٹ گجرات میںکانگریس کے انچیارچ ہیں۔ گجرات میںانتخابات چل رہے ہیں۔ کانگریس کیلئے یہ انتخابات اہمیت کے حامل ہیں۔
اشوک گہلوٹ کیلئے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ گجرات کے انتخابات پر زیادہ توجہ دیں۔ وہاں پارٹی اور امیدواروںکی کامیابی کو یقینی بنانے کی جدوجہد کریں۔ وہاں بی جے پی کو شکست دینے کی حکمت عملی بنائیں۔ تمام قائدین کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی جائے ۔ عوام کی تائید حاصل کرنے کی حکمت عملی بنائی جائے لیکن سچن پائلٹ کو نشانہ بنانے کو اشوک گہلوٹ زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ وہ سچن پائلٹ کو غدار کہنے سے بھی گریز نہیںکر رہے ہیں حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ جس حکومت کے وہ سربراہ ہیں اور راجستھان کے چیف منسٹر ہیں وہ کانگریس پارٹی کو سچن پائلٹ کی محنت کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے ۔ پائلٹ کے صدر پردیش کانگریس رہتے ہوئے جدوجہد کی گئی تھی ۔ جب اس محنت کے عوض اقتدار حاصل ہوا تو اشوک گہلوٹ چیف منسٹر بن بیٹھے اور ان کے چیف منسٹر رہتے ہوئے پارلیمانی انتخابات میں وہ کانگریس کو ایک بھی لوک سبھا حلقہ سے کامیابی دلانے میںناکام رہے تھے ۔ اس ساری صورتحال نے کانگریس پارٹی کو مستحکم کرنے اور اسے عوام سے مزید قریب کرنے کی بجائے پہلے سے زیادہ کمزور کرنا شروع کردیا ہے ۔ یہ بات واضح ہے کہ کانگریس لیڈر راہول گاندھی حالانکہ بھارت جوڑو یاترا پر نکلے ہوئے ہیں لیکن کانگریس کیلئے داخلی اختلافات اور گہلوٹ اور پائلٹ کی تو تو ۔ میںمیںپارٹی کیلئے زیادہ نقصان کا باعث بن رہی ہے ۔ یہی وہ صورتحال ہے جس کا بی جے پی پوری طرح سے فائدہ اٹھانے کو تیار ہے ۔
کانگریس کے نئے صدر ملکارجن کھرگے ہوں یا پھر سونیا گاندھی ہوں یا پرینکا گاندھی ہوں انہیں مزید وقت گنوائے بغیر اس مسئلہ کی یکسوئی کرنے کی ضرورت ہے ۔ جہاںگجرات میںتمام قائدین کو متحد ہونے اور عوام سے رجوع ہونے کی ضرورت ہے وہیں راجستھان میں بھی پارٹی کے تمام قائدین کا ایک رائے ہونا لازمی ہے ۔ جب تک کانگریس کی صفوں میں اتحاد نہیں ہوگا اس وقت تک ریاست میں پارٹی اقتدار بچانے میں کامیاب نہیں ہوگی اور آئندہ پارلیمانی انتخابات میں بھی اسے ہزیمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ اس صورتحال کو ٹالنے کی پارٹی قیادت اور رسہ کشی میںمصروف قائدین سبھی کو کوشش کرنی چاہئے ۔