گیانواپی معاملہ: ہندو فریق کو سپریم کورٹ میں بڑی راحت، مبینہ شیولنگ کا تحفظ جاری رہے گا

   

نئی دہلی: گیانواپی کیس میں ہندو فریق کو بڑی راحت ملی ہے ۔ سپریم کورٹ نے گیانواپی احاطہ میں ملے مبینہ شیولنگ کے تحفظ اور محفوظ رکھنے کے عبوری حکم کو اگلے حکم تک بڑھا دیا ہے ۔ اگلی سماعت پانچ دسمبر کو سماعت ہوگی ۔ سپریم کورٹ کی بینچ نے چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کی قیادت میں گیانواپی کیس میں درج اپیل پر سماعت کی ۔ اس اپیل میں ہندو فریق نے سپریم کورٹ کے عبوری حکم کو اور بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا ۔ عبوری حکم میں سپریم کورٹ نے مبینہ شیولنگ احاطہ کی بات کہی تھی ۔حالانکہ انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی کی جانب سے پیروی کررہے سینئر وکیل حذیفہ احمدنی نے بھی کورٹ میں اپنی دلیل پیش کی ۔ غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ کی بینچ نے جمعرات کو وکیل وشنو شنکر جین کی عرضی سنی ۔ ہندو فریقوں کے وکیل جین نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ان کا 17 مئی کو جاری حکم 12 نومبرکو ختم ہورہا ہے ۔ اس معاملہ میں مزید وقت دیا جائے ۔ جین نے اس معاملہ میں فوری سماعت کی اپیل کی تھی ۔