گیانیش کمار مسئلہ، استعفیٰ واحد حل

   

وکاس راج
آج کل سپریم کورٹ کے جسٹس اجل بھوئیان اور سابق جج فالی نریمن کے کافی چرچے ہیں۔ ملک بھر میں وزیراعظم نریندر مودی، وزیرداخلہ امیت شاہ اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ فضا میں ’’غداروں کو ہوگی سزاء، ووٹ چور گدی چھوڑ، دیش کے غداروں کو گولی مارو… ‘‘ جیسے نعرے گونج رہے ہیں۔ بہرحال ہم بات کررہے تھے جسٹس اجل بھوئیان کی جنہوں نے حیدرآباد کی نلسار یونیورسٹی میں قانون کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف الیکشن کمیشن آف انڈیا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ واضح طور پر کہا کہ ایک مرتبہ کسی رائے دہندہ کا نام فہرست رائے دہندگان میں درج ہونے کے بعد بغیر نوٹس اور سنوائی کے حذف نہیں کیا جاسکتا باالفاظ دیگر ووٹرلسٹ سے نام نہیں نکالا جاسکتا۔ ایک ہندوستانی شہری کی حیثیت سے اس کے حق رائے دہی کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ سپریم کورٹ کے ایک برسرخدمت جج کا یہ خیال ہے اور دوسری طرف الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ایس آئی آر کے بہانہ ایک کروڑ یا دو کروڑ نہیں بلکہ 13 کروڑ سے زائد رائے دہندوں کے نام فہرست رائے دہندگان یا ووٹر لسٹس سے حذف کردیئے ہیں۔ جسٹس بھوئیان کے اس بیان کو سپریم کورٹ کے کسی برسرخدمت جج کی جانب سے ایس آئی آر کے عمل پر کی جانے والی اب تک کی سب سے سخت ترین تنقید کہا جاسکتا ہے۔ جسٹس بھوئیان نے صرف ایس آئی آر عمل پر الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ ہی نہیں بنایا بلکہ یہ بھی کہا کہ اگر کسی عمل (ایس آئی آر) کے باعث کروڑوں ہندوستانی اپنے حق رائے دہی سے محروم ہوجاتے ہیں اور وہ دوسرے درجہ کے شہری بن جاتے ہیں تو ایسا عمل شخصی اور من مانی ہے۔ (آپ سب جانتے ہیں کہ فی الوقت ملک میں کون من مانی کررہا ہے) یہ دستور کی بنیاد پر کاری ضرب لگاتا ہے۔ بار اینڈ بنچ کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ دوسرے معاملوں کا حوالہ دے کر مسئلہ سے توجہ ہٹانے کی لاکھ کوشش کی جائیں اسے کسی بھی طرح قانونی اور جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ دستوری نظام کو رد کرنے کے مترادف ہے۔ جسٹس بھوئیان کے مطابق حق رائے دہی سے محروم لوگوں کا ایک الگ طبقہ تیار کرنا غیرقانونی ہے اور ہمارا دستور شہریوں کے دو طبقات کا تصور یا نظریہ پیش نہیں کرتا۔ ایسا کرنا دستور کی دفعات 326 اور 14 کی سنگین خلاف ورزی ہے اور سب کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ دستور سے بالاتر کوئی بھی نہیں ہے۔ کوئی بھی اتھاریٹی ایسا نہیں کرسکتی کوئی بھی عدالت اسے معاف نہیں کرسکتی یا اسے جائز نہیں ٹھہرا سکتی۔ دوسری طرف جسٹس فالی نریمن نے پرزورانداز میںکہا کہ حق رائے دہی ہمارے دستور اور ہماری جمہوریت کی دھڑکن بہت بڑے خطرہ میں ہے۔ دی وائر کے مطابق کروڑوں کی تعداد میں رائے دہندوں کے نام حذف کرنے کا عمل مرکزی سطح پر کیسے خود الیکشن کمیشن نے تیار کیا تھا اور ان میں سب سے بڑی تعداد میں ہندوستانی مسلم ووٹر متاثر ہوئے ہیں۔ سابق جج فالی نریمن کے مطابق ہم ایسے الیکشن کمیشن کو قبول نہیں کرسکتے جو اس طرح کام کرتا ہو کہ رائے دہندوں کے نام حذف کردیئے جائیں اور آج حق رائے دہی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ ان حالات میں سپریم کورٹ کو مداخلت کرنی چاہئے۔ خود جسٹس فالی نریمن کہتے ہیں کہ اسمبلی انتخابات سے قبل مغربی بنگال میں 90 لاکھ رائے دہندوں کے نام حذف کردیئے گئے اور اس کے باوجود سپریم کورٹ نے مداخلت نہیں کی۔ اس طرح کے عمل سے غریبوں کا سب سے زیادہ نقصان ہوتا ہے کیونکہ مغربی بنگال میں جن 90 لاکھ رائے دہندوں کے نام ہٹادیئے گئے ان میں سے 22 لاکھ رائے دہندوں نے اپیل کی اس کا مطلب یہ ہوا کہ مابقی لوگ غریب ہوں اور جن کے پاس عدالت سے رجوع ہونے کے ذرائع نہ ہوں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ مغربی بنگال میں جن 22 لاکھ لوگوں نے اپیل کی ان میں سے اب تک ایک لاکھ اپیلوں کے فیصلے آچکے اور آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ایک لاکھ میں سے 93 فیصد فیصلے رائے دہندوں کے حق میں آئے (جس سے الیکشن کمیشن کی نیت و ارادوں کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے باضابطہ یہ کہہ دیا ہیکہ مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے درمیان سازباز ہے جس پر الیکشن کمیشن خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے)۔ جسٹس نریمن کے مطابق ہندوستان میں آج بہت پریشان کرنے والے واقعات ہورہے ہیں۔ جسٹس نریمن نے چیف الیکشن کمشنر کے تقرر سے متعلق کہا کہ اس عہدہ کیلئے اہل اور آزاد شخصیت کا انتخاب کیا جانا چاہئے تاکہ رائے دہندوں کے ووٹ اسی نتیجہ میں تبدیل ہوں جس نتیجہ کیلئے ڈالے گئے تھے۔ آپ کو یاد دلادیں کہ فی الوقت چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کرنے والی کمیٹی پر اپوزیشن اعتراض کررہی ہے جس میں وزیراعظم، لوک سبھا میں قائد اپوزیشن اور وزیراعظم کی جانب سے نامزد ایک مرکزی وزیر شامل ہے حالانکہ ماضی میں مرکزی وزیر کی جگہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شامل ہوا کرتے تھے۔ ملک میں جمہوریت کیلئے یہ حوصلہ افزاء بات ہیکہ طلبہ و نوجوانوں سے لیکر سابق بیورو کریٹس نے بھی چیف الیکشن کمشنر مسٹر گیانیش کمار پر اپوزیشن نے جو الزامات عائد کئے ایک طرح سے ان کی تائید و حمایت کی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ سابق بیورو کریٹس نے گیانیش کمار سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی مواخذہ کی کارروائی کا مکتوب بھی روانہ کیا۔ ان بیورو کریٹس کے مطابق گیانیش کمار حق رائے دہی کے بنیادی عالمی اصول کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ دستور کی دفعہ 325(4) کے تحت چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔