میں وہی ہوں، نظر جو آتا ہوں
زندگی ہے کُھلی کتاب اپنی
ملک میں ووٹ چوری ایک عوامی مسئلہ بن گیا ہے اور ہر طبقہ میں اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے اور ہر کوئی اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے اپنی بات کا اظہار کر رہا ہے ۔ ملک میں اپوزیشن سیاسی جماعتوں ‘ طلباء اور جہد کاروں کے علاوہ وکلاء اور سیول سوسائیٹی ارکان کی جانب سے اس مسئلہ کو اجاگر کرتے ہوئے رائے عامہ ہموار کی جا رہی ہے ۔ ایک انگریزی روزنامہ نے ملک میں ووٹ چوری کے مسئلہ کو مزید اجاگر کیا ہے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی مبینہ من مانی اور یکطرفہ فیصلوں کا پردہ فاش کیا تھا ۔ اس انکشاف کے بعد سے سارے ملک میں یہی مسئلہ موضوع بحث بنا ہوا ہے اور اپوزیشن نے اپنی مہم میں شدت پیدا کردی ہے ۔ الیکشن کمیشن پر تنقید کی جا رہی ہے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے تاحال منظر عام پر آکر اس تعلق سے کوئی وضاحت نہیں کی ہے اور نہ ہی کوئی وضاحتی بیان دینے کی کوشش کی ہے ۔ تینوں الیکشن کمشنران میں اتفاق رائے نہ ہونے کے دعوے کئے گئے ہیں اور تاحال تینوں الیکشن کمشنران ایک ساتھ آگے نہیں آئے ہیں اور نہ ہی الزامات کے تعلق سے کوئی جواب دیا ہے ۔ جہاں جواب الیکشن کمیشن سے طلب کیا جا رہا ہے وہاں بی جے پی اس مسئلہ پر بیا ن بازیوں میں مصروف ہوگئی ہے اور وہ ان الزامات کو مسترد کر رہی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ اپوزیشن اور دیگر طبقات کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن کی من مانی اور غلط فیصلوں کی وجہ سے بی جے پی کو فائدہ پہونچایا گیا ہے ۔ ایسے میں بی جے پی تو غلط فیصلوں کا اعتراف نہیں کرے گا کیونکہ اسے ہی ان فیصلوں سے اقتدار حاصل ہوا ہے ۔ جواب تو الیکشن کمیشن کو دینا چاہئے ۔ تاہم کمیشن خاموش ہے اور بی جے پی کی جانب سے جواب دینے اور کمیشن کا دفاع کرنے کی مہم شروع کردی گئی ہے ۔ بی جے پی کی جانب سے بار بار جواب دینے اور الزامات مسترد کرنے کی کوشش ان شبہات کو مزید تقویت دینے کا باعث بن رہی ہے اور عوام کے ذہنوں میں اور بھی سوالات پیدا ہونے لگے ہیں۔ یہ سوالات کمیشن کی خاموشی سے بھی بڑھ رہے ہیں۔
بی جے پی کے کئی قائدین ‘ مرکزی وزراء اور کئی ریاستوں کے چیف منسٹروں نے اس تعلق سے جواب دینے کی کوشش کی ہے ۔ اب تو بی جے پی کے کرتا دھرتا سمجھے جانے والے وزیر داخلہ امیت شاہ بھی میدان میں کود پڑے ہیں۔ وہ خود اپوزیشن کے خلاف مہم میں ملک کی کئی ریاستوں میں شرکت کریں گے ۔ اب انہوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ حکومت اس مسئلہ پر پارلیمنٹ میں مباحث کیلئے تیار ہے ۔ حکومت کوئی بات چھپانا نہیں چاہتی اور پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کرتے ہوئے مکمل مباحث کیلئے تیار ہے تاہم راہول گاندھی اور اکھیلیش یادو مباحث نہیں کریں گے بلکہ وہ سڑکوں پر ڈرامہ کرنے کو ترجیح دیں گے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوںنے یا پھر ملک کے نوجوانوں اور طلباء نے بی جے پی یا حکومت سے کوئی جواب طلب نہیں کیا ہے اور نہ ہی ان سے کوئی سوال کیا گیا ہے ۔ سارا کچھ سوال اور شبہات صرف الیکشن کمیشن پر ظاہر کئے جا رہے ہیں اور کمیشن کو ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ اگر واقعی حکومت اس معاملے میں سنجیدہ ہے تو اس کو اپوزیشن کے خلاف مہم چلانے کی بجائے جمہوری عمل کو مستحکم کرنے اور اس کے تقدس کو برقرار رکھنے کے اقدامات کرنے چاہئیں اور عوام کے اعتماد کو بحال کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ سوال اگر الیکشن کمیشن سے پوچھا جا رہا ہے تو بی جے پی کی جانب سے جواب دینے کی کوشش ناقابل فہم ہے اور اس کا کوئی جواز بھی نہیں ہوسکتا ۔ بی جے پی جواب دینے کی جتنی کوشش کرے گی اتنے ہی شبہات مستحکم ہونگے اور سوالات اٹھائے جاتے رہیں گے ۔
مہاراشٹرا میں اسمبلی انتخابات کے بعد سے ہی یہ واضح ہونے لگا تھا کہ انتخابی عمل میں الٹ پھیر کیا جا رہا ہے ۔ مہاراشٹرا میں محض آٹھ مہینوں میں 40 لاکھ ووٹوں کا اضافہ کردیا گیا تھا ۔ اسی طرح مغربی بنگال اور بہار میں لاکھوں کی تعداد میں ووٹ حذف کردئے گئے تھے اور انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد ان ووٹوں کو دوبارہ شامل کیا جا رہا ہے ۔ اس سے عوام کے ذہنوں میں اور سیاسی جماعتوں میں جو سوال ابھر رہے ہیں وہ واجبی ہیں اور ان سوالات پر حکومت کو نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کو جواب دینے کی ضرورت ہے اور حکومت اس معاملہ میں گھسنے کی کوشش نہ کرے ۔ حکومت جتنی کوشش کرے گی اتنا ہی یہ واضح ہونے لگے گا کہ ان بے قاعدگیوں کا فائدہ خود بی جے پی کو ہی ہوا ہے ۔
مہنگائی سے عوام کی زندگیاں اجیرن
ہندوستان بھر میں بے شمار مسائل عوام کو تکالیف اور پریشانیوں کا باعث بن رہے ہیں اور حکومت کی جانب سے کوئی ایسے اقدام نہیں کئے جا رہے ہیں جن سے راحت مل سکے ۔ سب سے زیادہ سنگین مسئلہ مہنگائی کا ہوتا جا رہا ہے ۔ مہنگائی کی وجہ سے عوام کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جا رہی ہے اور لوگ مہنگائی کی وجہ سے دو وقت کی روٹی تک کیلئے پریشان ہو رہے ہیں۔ آج ضروریات زندگی کی ہر شئے مہنگی ہورہی ہے ۔ عام آدمی کیلئے یہ اشیاء قابل رسائی نہیں رہ گئی ہیں۔ دودھ سے لے کر ادویات تک ‘ ترکاریو ں سے لے کر دالوں تک ‘ چاول سے لے کر مصالحہ جات تک ہر شئے عوام کی قوت خرید سے باہر ہوگئی ہے اور حکومت اس پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ ذخیرہ اندوزی کے شبہات بھی تقویت پانے لگے ہیں۔ لوگ اشیائے ضروریہ کا ذخیرہ کرتے ہوئے ان کی کالا بازاری اور نفع خوری میں ملوث ہو رہے ہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے ۔ ایسے عناصر کو کیفر کردار تک پہونچانا چاہئے ۔ مہنگائی پر قابو پانے حکومت کو موثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ عوام کو راحت پہونچانے کیلئے رعایتوں کا اعلان کیا جانا چاہئے ۔ مسلسل مہنگائی کی مار سہتے ہوئے عوام بدحال ہونے لگے ہیں۔ عوام میں ناراضگی اور بے چینی پیدا ہونے لگی ہے ۔ اس صورتحال کا حکومت کو مداوا کرنا چاہئے ۔