گیانیش کمار کے مواخذہ کی کوشش

   

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
اسپیکر لوک سبھا مسٹر اوم برلا کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو لوک سبھا میں شکست ہوگئی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کی کوشش کامیاب نہیںہوسکی ۔ اب اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے مواخذہ کی مہم شروع کردی ہے اور اس کیلئے نوٹس بھی جاری کردی گئی ہے ۔ اس نوٹس پر جملہ 193 ارکان پارلیمنٹ نے دستخط کئے ہیں۔ ان میں 130 ارکان پارلیمنٹ لوک سبھا سے اور 63 راجیہ سبھا سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس طرح اپوزیشن جماعتیں ایوان میں اسپیکر لوک سبھا کے طرز عمل سے خوش نہیں تھے اور یہ الزام لگا رہے تھے کہ ایوان میں اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کے ساتھ امتیاز برتا جا رہا ہے اور ان کو مناسب مواقع نہیں دئے جا رہے ہیں اسی طرح چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طرز عمل سے بھی اپوزیشن جماعتیں مطمئن نہیں ہیں ۔ لگاتار یہ الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں کہ گیانیش کمار انتہائی جانبدارانہ طرز عمل احتیار کرتے ہوئے اپوزیشن کی جانب سے کئے جانے والے سوالات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ان کی تشویش پر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے اور تقریبا تمام کام ایسے کئے جا رہے ہیں جن کی وجہ سے برسر اقتدار جماعت بی جے پی کو فائدہ ہوسکے ۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب کبھی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے الیکشن کمیشن کے اقدامات پر تنقید کی جاتی ہے یا کوئی سوال کیا جاتا ہے تو کمیشن کی جانب سے جواب دئے جانے سے پہلے ہی بی جے پی میدان میں کود پڑتی ہے اور اس کا دفاع کرنے لگ جاتی ہے ۔ الیکشن کمیشن ایک دستوری اور خود مختار ادارہ ہے ۔ اس کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ کمیشن حکومت کے اشاروں پر کام کر رہا ہے اور حکومت بھی اسے اپنے ایک ونگ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کر رہی ہے ۔ الیکشن کمیشن پر دستوری ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ انتخابی عمل کو آزادانہ اور منصفانہ بنائے اور غیرجانبداری کے ساتھ کام کیا جائے ۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں کا لگاتار الزام ہے کہ الیکشن کمیشن غیر جانبداری سے کام نہیں کر رہا ہے بلکہ وہ بی جے پی اور حکومت کو فائدہ پہونچانے کیلئے مسلسل سرگرمی دکھا رہا ہے ۔
الیکشن کمیشن کے خلاف جو نوٹس پیش کی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ گیانیش کمار کو ان کے عہدہ سے ہٹایا جانا چاہئے ۔ اس نوٹس پر جہاں انڈیا اتحاد کے قائدین کے دستخظ موجود ہیں وہیں انڈیا اتحاد میںشامل نہ رہتے ہوئے عام آدمی پارٹی نے بھی دستخط کئے ہیں اور کچھ آزاد ارکان پارلیمنٹ کے بھی اس پر دستخط ہیں۔ اس نوٹس میںگیانیش کمار کے خلاف جملہ سات الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ یہ دعوی کیا گیا ہے کہ وہ عہدہ پر رہتے ہوئے جانبدارانہ اور امتیازی سلوک اختیار کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انتخابی دھاندلیوں اور دھوکہ کے خلاف تحقیقات میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں اور ملک میں کروڑوں افراد کو بیک وقت رائے دہی کے حق سے محروم کرتے ہوئے ان کے نام فہرست رائے دہندگان سے خارج کئے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ کمیشن مسلسل بی جے پی کی مدد کر رہا ہے اور خاص طور پر ایس آئی آر کے ذریعہ بی جے پی کی مدد کی جا رہی ہے ۔ یہ نوٹس پارلیمنٹ کے دونوں ایوان میں پیش کردی گئی ہے اور اس پر مباحث کب ہونگے اور غور و خوض کب کیا جائے گا اس کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا ہے تاہم یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے ایک انتہائی اہم مسئلہ کو ایوان میں موضوع بحث بنانے کیلئے پہل ضرور کردیہ ے اور اب ایوان میں اس پر مباحث کروائے جانے ہونگے ۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے گیانیش کمار کو بیدخل کروانے کی کوشش کامیاب ہوتی ہے یا نہیں یہ الگ بات ہے لیکن اپوزیشن نے اپنے منصوبے کو واضح کردیا ہے ۔
یہ درست ہے کہ ایوان میں اپوزیشن کو اکثریت اور درکار عددی طاقت حاصل نہیں ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی کامیاب نہیں ہوسکی تھی اور شائد گیانیش کمار کے خلاف بھی کوشش کامیاب نہ ہو پائے تاہم یہ ضرور ہے کہ یہ سارا چکھ ایوان کی کارروائی کے ریکارڈ میں درج ہوجائے گا اور یہ کوئی معمولی بات نہیں ہوسکتی ۔ اپوزیشن نے جو حکمت عملی تیار کی ہے وہ عوام کو توجہ دلانے کی تھی اور اس میں وہ کامیاب رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کی کارروائی میں اس کوشش کا تذکرہ ہوگا اور ریکارڈ درج ہوگا جس کی مثال پہلے شائد ہی دیکھنے کو ملی ہو ۔ اپوزیشن نے اپنا کام موثر ڈھنگ سے پیش ضرور کردیا ہے ۔