برقی خریداری کے معاہدوں پر نظرثانی کے حکمنامہ پر حکم التوا
امراوتی 25 جولائی ( پی ٹی آئی ) آندھرا پردیش میں وائی ایس جگن موہن ریڈی حکومت کو ایک جھٹکے میں آندھرا پردیش ہائیکورٹ نے ایک حکمنامہ پر حکم التواء جاری کردیا ہے جس میں کچھ کمپنیوں سے برقی کی خریداری پر دوبارہ مذاکرات کیلئے اعلی سطح کی مشاورتی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا تھا ۔ جسٹس ایم گنگا راو نے اس حکمنامہ پر حکم التواء جاری کردیا جو یکم جولائی کو جاری کیا گیا تھا ۔ یہ حکم التواء چار ہفتوں کیلئے ہے ۔ انہوں نے تقریبا 40 برقی کمپنیوں کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے یہ احکام جاری کئے ۔ جج نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس مسئلہ پر اپنا جواب داخل کرے ۔ آئندہ سماعت 22 اگسٹ کو مقرر کی گئی ہے ۔ واضح رہے کہ جگن موہن ریڈی حکومت نے سابقہ چندرا بابو نائیڈو حکومت میں کئے گئے برقی خریداری کے تمام معاہدات پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا تھا اور قیمتوں کے از سر نو تعین کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی ۔ مرکزی حکومت نے ریاست کو دو مکتوب روانہ کرکے نظرثانی نہ کرنے کی خواہش کی تھی اور کہا تھا کہ ایسا کرنے سے برقی کے شعبہ میں سرمایہ کاری متاثر ہوسکتی ہے ۔ مرکز کے مشورہ کو نظرانداز کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے نظرثانی کا کام شروع کردیا تھا اور کہا تھا کہ عوامی ۔ خانگی شراکت سے سرکاری خزانہ کو پانچ ہزار کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے ۔ اس پر خانگی کمپنیوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا ۔