ہاتھ اور انگلیاں انسانی جسم کے مصروف ترین حصے ہیں ۔ یہ ہر قسم کے موسم کی زد میں بھی رہتے ہیں۔ان کا واسطہ بار بار ٹھنڈے یا گرم پانی، مختلف طاقتور کیمیائی مادوں مثلاً ڈٹرجنٹ واشنگ پاؤڈرز، بلیچ اور دیگر واشنگ لیکوئیڈ مصنوعات سے پڑتا ہے۔جو ہاتھوں کی حساس جلد پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں ۔ آپ ملازمہ یا مددگار کے ساتھ بھی کام کر رہی ہوں تب بھی کبھی نہ کبھی ان کو استعمال کرنے کی نوبت آ ہی جاتی ہے۔ ہاتھوں کی جلد اسی ردِ عمل کے سبب چہرے اور جسم کے دیگر اعضاء کے مقابلے میں سیاہ یا گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔لہٰذا نگہداشت کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ جیسے ہی کام مکمل ہو آپ ہاتھ دھو لیں اور معیاری کمپنی کا ہینڈ لوشن لگا لیں مگر گیلے ہاتھوں پر کوئی کریم یا لوشن لگانا صحیح عمل نہیں۔ نرم تولئے سے ہاتھ پونچھ کر لوشن لگا سکتی ہیں۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ ہاتھ گیلے رکھنے سے ان پر نمی رہے گی تو یہ غلط ہے۔ ہاتھ گیلے رہنے سے جلد کی خشکی بڑھتی ہے۔گھریلو کام کاج کرتے وقت دستانے پہن لئے جائیں تو بھی جلد فوری طور پر اثر انداز نہیں ہوتی۔تاہم کئی خواتین دستانے پہن کر کام کرنے سے الجھن محسوس کرتی ہیں۔اگر ایسا کام کرنا ہو جس میں پانی استعمال نہ ہو تو پھر سوتی دستانے پہن کر کام کر لیا کریں۔
چند مفید چٹکلے آپ بھی نوٹ کر لیں: ہاتھوں کو جواں اور خوبصورت رکھنے کیلئے انہیں کلائیوں تک روئی کو دودھ میں بھگو کے مساج کریں۔ اس دودھ میں چند قطرے لیموں کے اور زیتون کے تیل یا لینولن (یہ ایک چکنا مادہ ہوتا ہے جو کاسمیٹکس میں استعمال ہوتا ہے) کے ملا لیں۔اس طرح نرم نرم انگلیوں سے اس محلول کو لگاتی رہیں۔ہفتے میں ایک یا دو بار کرنے سے ہاتھوں اور چہرے کی جلد یکساں دکھائی دے گی۔ ٭ تین کھانے کے چمچ چینی میں دو کھانے کے چمچ پسے ہوئے بادام کے سفوف اور زیتون کا تیل ملا کر سات منٹ مساج کرنے سے مردہ کھال جھڑتی ہے میل کچیل صاف ہوتا ہے اور اس کے بعد نیم گرم پانی سے دھو لیا جائے خاص کر کہنی بہت جلد سیاہ پڑتی ہے۔ اس محلول کی مدد سے جلد صاف ہی نہیں نرم و ملائم بھی ہو جاتی ہے۔
آج ہاتھوں کی ورزش بھی کر لیں: خواہ آپ گھر پر عام کام کاج کرتی ہوں یا دفتر میں، دن کا کوئی ایک حصہ یا چند لمحے فراغت کے بھی میسر آتے ہیں تب آپ چند سیکنڈوں کیلئے مٹھیوں کو سختی سے بند کر کے کھولئے پھر بند کیجئے پھر کھولئے اور جس قدر پھیلا سکتی ہیں پھیلائیں اس طرح انگلیوں کے عضلات اور ہڈیاں متحرک ہوتی ہیں۔ اپنے ہاتھ اپنے آگے سینے کے برابر اس طرح لائیں کہ ہتھیلیوں کا رْخ نیچے کی طرف ہو، دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو دوسرے کے خلاف زور سے دبائیں اور پھر انہیں ہٹا کر جس قدر پھیلا سکتی ہیں پھیلائیں۔ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں پر بھی رکھا جا سکتا ہے۔اب انہیں ایک دوسرے میں پیوست کر لیں۔ایک یا دو سیکنڈ کے باہمی دباؤ کے بعد انہیں ایک دوسرے سے علیحدہ کر کے کھولا یا پھیلایا جا سکتا ہے۔ اس طرح ہاتھوں میں خون کی روانی تیز ہوتی ہے ۔ ہاتھوں کو ڈھیلا چھوڑ کر کچھ دیر کیلئے لٹکائیں اور ڈھیلا چھوڑ دیں پھر کلائیوں سے کلاک اور اینٹی کلاک کی صورت میں گھما کر گردش دیں۔اگر آپ کے ہاتھ تھکے ہوئے ہیں تو پانی نیم گرم کر لیں اور چٹکی بھر نمک ملا کر انہیں چند ساعتوں تک ڈبوئے رکھیں۔نمک والا پانی ہاتھوں کو سکون بخشتا ہے۔اگر آپ ایک تسلے میں نیم گرم اور دوسرے تسلے میں ٹھنڈا پانی رکھ کر باری باری دونوں کو ڈبوئیں یہ عمل اعصاب کو بھی پُرسکون کرتا ہے۔
٭٭ ٭ ٭٭