خیر سگالی بورڈ کی تشکیل کا فیصلہ ، علماء و مشائخین کا اجلاس ، مولانا محمد حسام الدین جعفر پاشاہ کا خطاب
حیدرآباد۔4جولائی (سیاست نیوز) ملک کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کو متحدہ طور پر مظلوموں کی حمایت اور ظالم کی مذمت کا رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور اسی نظریہ کے تحت شہر حیدرآباد کے علماء و مشائخین نے فیصلہ کیا ہے کہ خیر سگالی بورڈ کی تشکیل کے ذریعہ ملک میں جاری ہجومی تشدد کی دہشت گردانہ کاروائیوں کے سلسلہ میں آواز اٹھائی جائے۔ امیر امارت ملت اسلامیہ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ کی جانب سے آج طلب کئے گئے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک میں پھیل رہی بد امنی کو روکنے اور مسلمانوں کے خلاف جاری دہشت گردانہ کاروائیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کیلئے یہ بورڈ کی تشکیل عمل میں لائی گئی ہے تاکہ کسی بھی مقام پر ہونے والی پرتشدد کاروائی کے خلاف شہر حیدرآباد سے متحدہ آواز کو یقینی بنایاجائے ۔ اجلاس میں مولانا عبدالمغنی مظاہری‘ مولانا مفتی صادق محی الدین فہیم ‘ مولانا تقی عثمانی‘مولانا مفتی غیاث رشادی ‘ مولانا عبید الرحمن اطہر ندوی‘ مولانا تقی رضا عابدی‘مولانا سید احمد الحسینی سعید قادری‘مولانا صفی احمد مدنی ‘ مولانا عبدالغفار سلامی‘ جناب مشتاق ملک‘ جناب قاری عبدالقیوم شاکر‘ جناب محمد منیر الدین مختار کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ اجلاس کی روداد سے واقف کرواتے ہوئے مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے کہا کہ موجودہ حالات میںعوام الناس میں شعور اجاگر کرتے ہوئے انہیںامت واحدہ کے درس سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے اسی لئے علماء کرام سے مشاورت کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام ملی ‘ مذہبی اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں کو شامل کرتے ہوئے ایک خیر سگالی بورڈ کی تشکیل عمل میں لائی جائے اور اس بورڈ کی تشکیل کا مقصد ملک میں مسلمانوں کو حالات سے واقف کرواتے ہوئے ان کی اپنی حکمت عملی تیار کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بورڈ کے ذریعہ احتجاج اور موجودہ حالات پر قابو پانے کیلئے حکومت کو مجبور کرنے کی حکمت عملی تیار کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے کہا کہ مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کیلئے کی جانے والی ان کاروائیوں سے مسلمانوں میں خوف پیدا نہیں ہوگا بلکہ ان حالات سے سبق حاصل کرتے ہوئے مسلمان اپنے فہم و تدبر کے ذریعہ حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے ثابت قدم ہوتا جائے گا۔انہو ںنے کہا کہ یہ حالات کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ اس طرح کے حالات کے بعد مسلمانوں میں شعور اجاگر ہوتا ہے اور اس شعور کا مظاہرہ مسلمانوں میں اتحاد اور اتفاق کے ذریعہ صحیح وقت پر ہوتا ہے۔