ہریانہ اور میدک ضلع کے واقعات پر یونائٹیڈ مسلم فورم کا شدید ردعمل

   

حیدرآباد۔/19 فروری، ( سیاست نیوز) یونائٹیڈ مسلم فورم نے ہریانہ میں دو مسلم نوجوانوں کو زندہ جلائے جانے اور تلنگانہ کے ضلع میدک میں پولیس کی ایذا رسانی سے ایک مسلم نوجوان کی ہلاکت کی شدید مذمت کی۔ فورم نے خاطیوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا حکومتوں سے مطالبہ کیا۔ فورم کے ذمہ داروں مولانا مفتی سید صادق محی الدین فہیم ( صدر)، مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری، مولانا سید محمد قبول بادشاہ قادری شطاری، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا شاہ محمد جمال الرحمن مفتاحی، مولانا میر قطب الدین علی چشتی، جناب ضیاء الدین نیر، جناب منیر الدین احمد مختار ( جنرل سکریٹری )، مولانا سید حسن ابراہیم حسینی قادری اور دوسروں نے ان واقعات کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ راجستھان سے ناصر اور جنید نامی نوجوانوں کو اغوا کرکے انہیں ہریانہ لیجایا گیا اور مار پیٹ کے بعد گاڑی سمیت جلادیا گیا۔ تلنگانہ کے میدک ٹاؤن میں پولیس کی بربریت کے نتیجہ میں مسلم نوجوان قدیر خان کی موت واقع ہوگئی۔ یہ واقعہ ریاستی حکومت اور پولیس کیلئے چیلنج ہے۔ لوجہاد کا جال بچھا کر نوجوان کو چوری کے جھوٹے الزام میں پھنسایا گیا اور کئی دن تک پولیس نے اذیت دی۔ فورم نے چیف منسٹر کے سی آر سے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کے خاطی پولیس عہدیداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں اور متوفی کے ورثاء کو ایک کروڑ روپئے ایکس گریشیا ادا کیا جائے۔ر