تحقیقات میں تعاون کا مشورہ، فون ٹیاپنگ کیس کو کالعدم کرنے سابق وزیر کی درخواست
حیدرآباد ۔5۔ڈسمبر (سیاست نیوز) بی آر ایس کے سابق وزیر ٹی ہریش راؤ کو تلنگانہ ہائی کورٹ سے اس وقت راحت ملی جب عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ ہریش راؤ کو گرفتار نہ کر یں۔ پنجہ گٹہ پولیس اسٹیشن میں ہریش راؤ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جس میں بی آر ایس دور حکومت میں کانگریس قائد جی چکردھر گوڑ کے ٹیلیفون ٹیاپنگ کی شکایت کی گئی۔ پولیس مقدمہ کو کالعدم قرار دینے کیلئے ہریش راؤ ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے۔ جسٹس لکشمن نے آج درخواست کی سماعت کی اور پنجہ گٹہ پولیس کو ہدایت دی گئی کہ وہ ہریش راؤ کو گرفتار نہ کریں۔ عدالت نے کہا کہ مقدمہ کے سلسلہ میں پولیس تحقیقات کرسکتی ہے اور تحقیقات میں ہریش راؤ کو مکمل تعاون کرنا چاہئے ۔ عدالت نے جی چکردھر گوڑ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمہ کو آئندہ کیلئے ملتوی کردیا۔ عدالت نے کہا کہ تحقیقات کے سلسلہ میں پولیس ہریش راؤ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تحقیقات کو مکمل کرسکتی ہے ۔ واضح رہے کہ سدی پیٹ سے تعلق رکھنے والے صنعت کار اور کانگریس قائد جی چکر دھر گوڑ نے پنجہ گٹہ پولیس اسٹیشن میں ہریش راؤ اور سابق ڈی سی پی رادھا کرشن راؤ کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ہریش راؤ نے درخواست میں کہا کہ سیاسی انتقامی کارروائی کے تحت ان کے خلاف پولیس میں شکایت کی گئی ہے ۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ کسی ثبوت کے بغیر ہی ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے تاکہ سیاسی امیج کو متاثر کیا جائے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ پولیس کی گرفتاری کی صورت میں ان کا سیاسی امیج متاثر ہوسکتا ہے ۔ ہریش راؤ کے وکیل نے کہا کہ فون ٹیاپنگ بی آر ایس دور حکومت میں ہونے کا الزام عائد کیا گیا لیکن طویل عرصہ تک درخواست گزار نے پولیس سے شکایت کیوں نہیں کی۔ فریقین کی سماعت کے بعد جسٹس لکشمن نے ہریش راؤ کو پولیس تحقیقات میں تعاون کی ہدایت دیتے ہوئے انہیں گرفتار نہ کرنے کے احکامات جاری کئے ۔ عدالت نے کہا کہ ہریش راؤ کے خلاف پولیس کو کسی بھی پیشگی کارروائی سے گریز کرنا چاہئے ۔ عدالت نے کہا کہ آئندہ احکامات کی اجرائی تک عبوری احکامات نافذ رہیں گے ۔ ہائی کورٹ کے احکامات سے سابق وزیر ہریش راؤ کو راحت ملی ہے اور ان کے حامیوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔ پنجہ گٹہ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کئے جانے کے بعد اندیشہ تھا کہ پولیس ہریش راؤ کو حراست میں لے گی۔ 1