ہری ونش کا دوبارہ راجیہ سبھا کا ڈپٹی چیئرمین منتخب ہونا طے

   

نئی دہلی، 16 اپریل (یو این آئی) راجیہ سبھا کے نامزد رکن جناب ہری ونش کا ایوان بالا کے ڈپٹی چیئرمین کے عہدے پر بلامقابلہ منتخب ہونا طے ہے ، کیونکہ اس انتخاب کیلئے نامزدگی کی آخری تاریخ ختم ہو چکی ہے اور اپوزیشن سے کسی نے کاغذات نامزدگی داخل نہیں کیے ۔ہری ونش نے ایوان بالا کے ڈپٹی چیئرمین کیلئے انتخاب کیلئے نامزدگی داخل کی ہے اور ان کی نامزدگی کی حمایت میں پانچ تجاویز دی گئی ہیں۔ انتخاب کیلئے نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ جمعرات کو دوپہر 12 بجے تک تھی۔ اس دوران کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے مودی حکومت پر پارلیمانی روایات کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اپوزیشن نے راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین عہدے کیلئے انتخاب کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ذرائع کے مطابق مقررہ وقت تک اپوزیشن سے کوئی تجویز پیش نہیں کی گئی، اس لیے ہری ونش کا ڈپٹی چیئرمین منتخب ہونا یقینی ہے ۔ اس طرح جناب ہری ونش مسلسل دوسری بار ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوں گے ۔ ان کی دوسری مدت 9 اپریل کو ختم ہونے کے بعد صدر جمہوریہ نے انہیں ایوان بالا کیلئے نامزد کیا تھا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ہری ونش کی حمایت میں تجاویز ایوان کے لیڈر جے پی نڈا اور این ڈی اے کے ارکان نے دی ہیں۔ نڈا کی تجویز کی تائید بی جے پی رکن ایس فانگنون کونیاک نے کی ہے ۔ تمام تجاویز میں کہا گیا کہ ہری ونش کو راجیہ سبھا کا ڈپٹی چیئرمین منتخب کیا جائے ۔ روایت کے مطابق یہ تجاویز جمعہ کو ایوان میں پیش کی جائیں گی۔ اگر کوئی ایک تجویز ایوان سے منظور ہو جاتی ہے تو باقی تجاویز بے معنی ہو جائیں گی اور ان پر ووٹنگ نہیں کرائی جائے گی۔ذرائع کے مطابق یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پہلی تجویز، جسے نڈا پیش کریں گے اور کونیاک اس کی تائید کریں گی، ایوان سے صوتی ووٹ کے ذریعے منظور ہو جائے گی۔ پھر صدر نشین کی جانب سے ہری ونش کے انتخاب کا اعلان کیا جائے گا ۔