9 ڈسمبر کو بلوپرنٹ کے ساتھ عہدیداروں کو حاضر عدالت ہونے کی ہدایت
حیدرآباد۔/23نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے بشیر باغ میں واقع ہل فورٹ پیالیس کی ہیرٹیج عمارت کے تحفظ کے اقدامات میں تساہل پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ چیف جسٹس اجل بھویاں اور جسٹس وجئے بھاسکر ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے حیدرآباد ہیرٹیج ٹرسٹ کے بانی دیپک کانت گیر کی جانب سے دائر کردہ مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے عمارت کے تحفظ اور تزئین نو کے بارے میں عہدیداروں کے رسمی جوابات پر ناراضگی جتائی۔ عدالت نے کہا کہ حیرت اس بات پر ہے کہ عہدیدار تیار شدہ جوابات کے ذریعہ عدالت سے وقت مانگ رہے ہیں۔ عدالت نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ عمارت کے تحفظ اور تزئین نو کیلئے بلوپرنٹ پیش کریں۔ جی ایچ ایم سی، ایچ ایم ڈی اے، فینانس اور سیاحت کے عہدیداروں سے کہا گیا کہ وہ عمارت کی بحالی سے متعلق منصوبہ کی تفصیلات سے عدالت کو واقف کرائیں۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے بلوپرنٹ کی تیاری کیلئے 8 ہفتوں کا وقت مانگا اور کہا کہ ہیرٹیج عمارت کا جائزہ لینے اور پلان کی تیاری کیلئے وقت لگے گا۔ ڈیویژن بنچ نے ٹورازم اور فینانس کے عہدیداروں سے سوال کیا کہ وہ گذشتہ کئی ماہ سے عدالت کو یہ تیقن کیوں دیتے رہے کہ وہ 50 کروڑ سے عمارت کے تحفظ کا منصوبہ رکھتے ہیں جبکہ انہوں نے کوئی بنیادی ہوم ورک نہیں کیا تھا۔ عدالت نے کمشنر جی ایچ ایم سی، سکریٹری فینانس ، کمشنر ایچ ایم ڈی اے اور ٹوریزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائرکٹر کو پابند کیا کہ آئندہ سماعت کے موقع پر عدالت میں حاضر رہیں اور عمارت کی بحالی سے متعلق بلوپرنٹ پیش کریں۔ سرکاری محکمہ جات کو اس سلسلہ میں 9 ڈسمبر تک کا وقت دیا گیا ہے۔ر