ہمارے عہدیداروں کا پی ایف آئی سے تعلق نہیں :کیرالا پولیس

   

میڈیا رپورٹس کی اطلاعات پر وضاحت

ترواننتا پورم: کیرالا پولیس نے منگل کو میڈیا کی ان خبروں کی صاف تردید کی کہ این آئی اے کی جانب سے ایک رپورٹ ریاستی پولیس سربراہ انلو کانت کو سونپی گئی ہے، جس میں دعویٰ کیا جارہا ہیکہ ریاستی پولیس کے 873 عہدیداروں کے اب ممنوعہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) سے تعلقات ہیں۔ ٹویٹر پر ریاستی پولیس نے رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا۔ میڈ یا رپورٹ جو پہلے ایک سرکردہ مقامی روزنامہ میں شائع ہوئی تھی، یہ دعویٰ کرتی ہے کہ این آئی اے کی فہرستوں میں کیرالا پولیس کے عہدیداروں کے نام شامل ہیں ، جس میں امن و امان،
چوکسی اور خصوصی شاخ سے لے کر مختلف زمروں کو کاٹ دیا گیا ہے۔ پھر اس نے دعویٰ کیا کہ سب انسپکٹر کے عہدے سے لیکر اسٹیشن ہاؤس آفیسرز اور سیول پولیس عہدیدار مرکزی ایجنسیوں کی نظر میں ہیںاور ان کے مالی معاملات کی جانچ کی جارہی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ چھاپوں کی رپورٹس افشاء کرنے میں مصروف رہے ۔ اس خبر نے قومی اور ریاستی سطح پر پی ایف آئی کے ایک درجن سے زائد کارکنوں کی توجہ حاصل کی۔ این آئی اے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے مشترکہ آپریشن کے ذریعے گزشتہ ماہ ریاست کے مختلف شہروں سے پی ایف آئی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔یہ سب اس وقت عدالتی حراست میں ہیں۔ اتفاق سے مشترکہ چھاپوں سے پہلے مرکزی ایجنسیوں نے ریاستی پولیس سربراہ سے مدد طلب کی تھی، یہ بتائے بغیر کہ ان کی کارروائی کیا ہے؟ اس کے بجائے صرف اتنا کہا گیا کہ انہیں کام کے لئے کیرالا پولیس کے عہدیداروں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔