ہماچل پردیش کی عبادتگاہ میں ہندوتوا غنڈوں کی توڑ پھوڑ

,

   

’’لینڈ جہاد‘‘ کے نام پر اندرون 15 دن عبادت گاہ کو نشانہ بنانے کا دوسرا واقعہ
شملہ : ہندوتوا تنظیم ہندو جاگرن منچ نے ہماچل پردیش کی ایک عبادتگاہ میں توڑ پھوڑ کی ۔ تنظیم کے ارکان کی جانب سے اس کا ویڈیو بڑے پیمانہ پر سوشیل میڈیا پر وائرل کیا گیا۔ ’’لینڈ جہاد‘‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے اندرون 15 دن ہندوتوا کے غنڈوں کی جانب سے عبادتگاہ کو نشانہ بنانے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ تنظیم کے کارکن کمل گوتم کی جانب سے اپنے فیس بک پیج پر یہ ویڈیو وائرل کیا گیا، جس پر مسلمانوں کے خلاف اس کی تشہیر کی گئی۔ اس ویڈیو کے ساتھ ایک کیپشن بھی دیا گیا ہے جس میں دیو بھومی کو صاف کرنے اور لینڈ جہاد کو ختم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ قبل ازیں ہندو جاگرن منچ کے ایک کارکن ہریش رام کلی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہماچل پردیش کی ایک اور عبادتگاہ میں توڑ پھوڑ کی تھی جس کے ویڈیوز پر سوشیل میڈیا پلیٹ فارم سے وائرل کئے گئے تھے۔ ہریش رام کلی نے بھی لینڈ جہاد کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ اس نے غیر قانونی عبادتگاہوں کو مسمار کرنے کی دھمکی دی تھی۔ ہماچل پردیش میں اسلامی جہاد کے خلاف ہندوتوا غنڈوں کی مہم کی اس نے ستائش کی تھی ۔ ہریش رام کلی نے فیس بک پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اپنے کیپشن میں لکھا کہ دیو بھومی پر لینڈ جہاد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہر ایک غیر قانونی پیر مزار کے ساتھ ایسا ہی کیا جائے گا۔