’ہمیں سزا نہ دیں، متاثرین کو معاوضہ دیں‘ :پولیس ملازمین مسلم نوجوانوں کو کوڑے مارنے والوں کی گجرات ہائیکورٹ سے درخواست

,

   

احمد آباد :گجرات ہائی کورٹ نے مسلم نوجوانوں کو سرعام کوڑے مارنے والے چار پولیس ملازمین کے خلاف توہین عدالت کے الزامات عائد کر دیے ہیں۔ بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق، اس معاملہ میں چہارشنبہ کو ملزم پولیس ملازمین نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں سزا دینے کے بجائے، ان پانچ مسلم مردوں کو معاوضہ دینے پر غور کیا جائے جنہیں انہوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں سرعام مارا تھا۔چار افسران اے وی پرمار، ڈی بی کماور، کنک سنگھ لکشمن سنگھ اور راجو رمیش بھائی ڈابھی نے سینئر ایڈوکیٹ پرکاش جانی کے ذریعے جسٹس اے ایس سپیہیا اور گیتا گوپی کی بنچ کو بتایا کہ وہ توہین عدالت کے الزام پر فیصلہ کرنے سے پہلے ان کی خدمات پر غور کریں۔جانی نے بنچ سے کہا کہ ہم نے ریاستی پولیس میں 10 سے 15 سال سے زیادہ کی سروس دی ہے۔ فوری کارروائی کے بعد اگر عدالت ہمیں قصوروار قرار دیتی ہے تو ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ براہ کرم ہمیں سزا نہ دیں کیونکہ اس سے ہمارا خدمات کا ریکارڈ بہت زیادہ متاثر ہوگا۔ ہماری درخواست ہے کہ براہ کرم شکایت کنندگان کو معاوضے کا حکم دینے پر غور کریں۔اس کے بعد ڈویژن بنچ نے شکایت کنندہ یا واقعے کے متاثرین سے جواب طلب کیا اور کیس کی اگلی سماعت پیر 16 اکتوبر کو مقرر کی۔خیال رہے کہ اوندھیلہ گاؤں میں نوراتری پروگرام کے دوران ہجوم پر مبینہ طور پر پتھراؤ کرنے کے الزام میں کھیڑا ضلع کے ماٹر تھانے کے پولیس اہلکاروں نے پانچ افراد کو زدوکوب کیا تھا۔ مار پیٹ کے واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی تھی۔متاثرین کے لواحقین نے ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی جس میں ڈی کے باسو بمقابلہ ریاست مغربی بنگال کے معاملے میں جاری کردہ سپریم کورٹ کے رہنما خطوط کی خلاف ورزی کرنے پر پولیس اہلکاروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست کی گئی تھی۔