چھوٹے بچے نہیں کہ ڈر جائیں ، کانگریس قائدین پر منحرف ارکان اسمبلی کا جوابی وار
حیدرآباد۔/12 جون، ( پی ٹی آئی) کانگریس سے انحراف کرتے ہوئے حال ہی میں حکمراں ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرنے والے 12 ارکان اسمبلی نے اپنے پر تنقید کرنے والے اپوزیشن قائدین کو جوابی تنقیدی حملوں کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دستوری دفعات کے مطابق قدم اٹھایا ہے۔ کانگریس نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں لالچ دے کر ٹی آر ایس میں شامل کیا گیا ہے اور ریاستی کانگریس نے ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کرتے ہوئے اپنے منحرف ارکان کے ٹی آر ایس لیجسلیچر پارٹی میں انضمام کو چیلنج کیا ہے۔ ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے دیگر ارکان کے ساتھ اس گروپ کے ایک سینئر لیڈر کنڈرا وینکٹ رمنا ریڈی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ دستوری ضابطوں کے مطابق حکمراں جماعت میں شامل ہوئے ہیں۔ وینکٹ رمنا ریڈی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم 12 ارکان اسمبلی اس ماہ کی 6 تاریخ کو اسپیکر سے ملاقات کئے تھے ۔ دستور کے 10 ویں جدول میں یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر کسی پارٹی کے دو تہائی ارکان اسمبلی انضمام چاہتے ہیں تو وہ ایسا کرسکتے ہیں۔ اس طرح ہم نے 6 ( جون ) کو اسپیکر سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں ایک مکتوب حوالہ کیا تھا۔‘‘ وینکٹ رمنا ریڈی نے مزید کہا کہ ’’ ہم نے چیف منسٹر سے درخواست کی تھی کہ ہمیں ٹی آر ایس لیجسلیچر پارٹی میں شامل کیا جائے۔ اس مکتوب کے مطابق اسپیکر نے ہمیں انضمام اور شمولیت کی اجازت دی تھی۔‘‘ ارکان نے 6 جون تک ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار نہیں کی تھی اور وینکٹ رمنا ریڈی نے کانگریس قائدین کے الزامات کو مسترد کردیا کہ انہیں لالچ دے کر ٹی آر ایس میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ کانگریس پارٹی کے قائدین کے تبصرے حیرت انگیز ہے جنہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی محض لالچ کی پیشکش، خریدی یا خوف کے تحت منحرف ہوئے ہیں۔ ہم کوئی بچے نہیں ہیں کہ ڈر جائیں یا ایسے نہیں ہیں جو کسی لالچ کو دیکھ کر پھسل جائیں یا پھر کوئی بھینس بکری نہیں ہیں کہ بک ( فروخت ہوجائیں)جائیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی نے اپنے حلقوں کے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے مفاد میں یہ فیصلہ کیا ہے۔