حالیہ ہند۔پاک کشیدگی میں پاکستان کی حمایت کا شاخسانہ ، کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس کی قومی کانفرنس میں فیصلہ
نئی دہلی، 16 مئی (یو این آئی) خوردہ تاجروں کی تنظیم کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز (سی اے آئی ٹی) کی قومی کانفرنس میں ملک بھر کے 125 سے زیادہ سرکردہ کاروباریوں نے ترکی اور آذربائیجان کے ساتھ تمام قسم کے تجارتی اور کاروباری تعلقات کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ دہلی میں جمعہ کے روز منعقدہ سی اے آئی ٹی کی قومی کانفرنس میں تاجروں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ اب ہندوستان کی تاجر برادری ترکی اور آذربائیجان کے ساتھ ہر قسم کے تجارتی اور کاروباری تعلقات کو مکمل طور پر ختم کر دے گی۔ اس میں سفر، سیاحت اور فلموں کی شوٹنگ بھی شامل ہے ۔ تاجر لیڈروں نے ہندوستانی فلم انڈسٹری سے اپیل کی ہے کہ وہ ان ممالک میں شوٹنگ نہ کریں اور اگر وہاں کسی فلم کی شوٹنگ ہوئی تو اس کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ اسی طرح کسی بھی کارپوریٹ ہاؤس کو ان ممالک میں اپنے اشتہارات یا پروموشنز کی شوٹنگ سے بھی روک دیا جائے گا۔ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ حال ہی میں ترکی اور آذربائیجان نے کھل کر پاکستان کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی، ہندوستان اس وقت سنگین سکیورٹی بحران سے گزر رہا ہے ۔ تاجروں کا خیال ہے کہ یہ ہندوستان کی دوستی اور مدد کی توہین ہے ، خاص طور پر جب ہندوستان نے بحران کے وقت ان ممالک کو انسانی اور سفارتی مدد فراہم کی تھی۔ سی اے آئی ٹی کے جنرل سکریٹری اور ایم پی پروین کھنڈیلوال نے کانفرنس میں کہا کہ ترکی اور آذربائیجان نے ہندوستان سے مدد لینے کے بعد اب پاکستان جیسے دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ملک کی حمایت کی ہے۔ یہ ہندوستان کی خودمختاری اور عوام کے جذبات کی توہین ہے ۔ اس کے ساتھ ہی کیٹ کے صدربی سی بھارتیہ نے دونوں ممالک کی پالیسیوں کو ہندوستان مخالف قرار دیا۔ کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا کہ ترکی اور آذربائیجان کی مصنوعات کا ملک گیر بائیکاٹ کیا جائے گا۔ ان ممالک کے ساتھ تمام کاروباری شراکتیں ختم کر دی جائیں گی۔ ان ممالک میں سیاحت کے فروغ اور کاروباری سفر کے منصوبے بند کیے جائیں گے ۔ حکومت سے ان ممالک کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کی درخواست کی جائے گی۔ تاجروں نے حکومت کی جانب سے ترک کمپنی سیلبی گراؤنڈ ہینڈلنگ کی سکیورٹی کلیئرنس منسوخ کرنے کے فیصلے کی حمایت کی۔ سی اے آئی ٹی اب پورے ملک میں بیداری مہم شروع کرے گی تاکہ تاجر، صارفین اور ٹریول ایجنسیاں اس بائیکاٹ میں شامل ہو کر ہندوستان کے اتحاد اور سلامتی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔