ہندوستانی جی ڈی پی کے اعداد و شمار پر یقین کرنا مشکل

   

سرکاری ڈیٹا کے اعتبار کو مشکوک نہ بنایا جائے، بے روزگاری مودی حکومت کیلئے سب سے بڑا مسئلہ

نئی دہلی 29 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کے لئے اپنی دوسری میعاد میں معیشت سے متعلق متعدد مسائل موجود ہیں پھر بھی وہ اِس ضمن میں مختلف سوالات پر جرأتمندانہ موقف اختیار کرتے ہوئے اعداد و شمار پیش کرتے ہیں۔ ماہرین معاشیات کے لئے اِن اعداد و شمار پر یقین کرنا مشکل ہے، وہ اِس لئے کہ حقیقت میں معاشی ماحول سے یہ اعداد و شمار مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔ تسلسل سے جو معاشی ترقی ہوئی ہے اور جو مجموعی دیسی پیداوار (جی ڈی پی) گزشتہ برسہا برس سے درج ہوتی آئی ہے، اُسے آنے والے برسوں میں یکایک غیرمعمولی اُچھال کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔ مودی کی پہلی میعاد جو 2014 ء سے 2019 ء تک رہی، اُس کے دوران سالانہ 7 فیصد سے زائد جی ڈی پی ترقی بتائی گئی ہے۔ ہوا بازی، دفاع اور بیمہ کے شعبوں کو بیرونی راست سرمایہ کاری کے لئے کھولنے کے اقدامات کئے گئے۔ چنانچہ اِن شعبوں میں 2017-18 ء میں ایف ڈی آئی بڑھ کر زائداز 60 بلین امریکی ڈالر ہوگئی جو پیوستہ تین سال میں 45 بلین ڈالر تھی۔ مودی حکومت کے لئے سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری ہے جو گزشتہ کئی دہوں میں اپنی اونچی شرح پر پہونچ چکی ہے۔ موجودہ حکومت جس طرح کی معاشی پالیسی پر عمل پیرا ہے اُسے ’مودی نامیکس‘ کی اصطلاح دی جارہی ہے کیوں کہ لگ بھگ ہر معاشی فیصلہ وزیراعظم مودی کی سوچ کی اختراع بتائی جارہی ہے۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے سابق میں وابستہ رہ چکے اروند سبرامنیم جو گزشتہ سال تک مودی حکومت کے معاشی مشیر اعلیٰ بھی تھے، اُنھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستانی جی ڈی پی 2012-2017 ء کے درمیان اوسطاً 4.5 فیصد سے قریب رہی نہ کہ 7 فیصد جو سرکاری ڈیٹا بتایا گیا ہے۔ سبرامنیم کا کہنا ہے کہ ایشیاء کی تیسری بڑی معیشت سست روی سے بڑھ رہی ہے نہ کہ کوئی غیر معمولی پیشرفت ہورہی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ نئی دہلی کو اعداد و شمار کے تعلق سے شبہات کا سامنا ہوا ہے۔ ٹیم مودی پوری مستعدی دکھاتے ہوئے سبرامنیم کے دعوؤں کو خارج کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ مودی کی اکنامک اڈوائزری کونسل کا کہنا ہے کہ جی ڈی پی کے تعلق سے شبہات سے حکومت کی کارکردگی پر اثر نہیں پڑے گا۔ آر بی آئی کے سابق ڈپٹی گورنر راکیش موہن نے کہاکہ اگر سبرامنیم درست ہیں تو کسی بھی کمپنی یا سرمایہ کار کو ہندوستان کی معیشت کی بڑھوتری پر نظرثانی کرنا پڑسکتا ہے۔