ہندوستانی سیاست میں سرخ پرچم غروب ہوگیا

   

50 سال بعد ملک کسی بھی کمیونسٹ چیف منسٹر سے محروم ۔ تاریخی زوال
حیدرآباد : /5 مئی (سیاست نیوز) ہندوستانی سیاست میں ایک صدی تک مظلوموں اور محنت کش طبقہ کی آواز بن کر ابھرنے والے بائیں بازو کی جماعتیں آج اپنے وجود کی بقا کی جنگ لڑرہی ہیں ۔ /4 مئی 2026 ء کا دن ملک کی تاریخ میں اس لحاظ سے ایک ’’سیاہ دن ‘‘ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ پانچ دہائیوں کے طویل وقفے کے بعد ہندوستان کی کسی بھی ریاست میں اب کوئی کمیونسٹ چیف منسٹر موجود نہیں ہے ۔ ہندوستانی سیاست میں بائیں بازو جماعت کا عروج کسی کرشمہ سے کم نہیں تھا ۔ 2004 ء کے لوک سبھا انتخابات میں 59 لوک سبھا نشستوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے مرکز میں کانگریس کے زیرقیادت یو پی اے حکومت کی تشکیل میں کنگ میکر کا کردار ادا کرنے والے کمیونسٹ قائدین جیسے پرکاش کرات اور سیتا رام یچوری کبھی دہلی کے سیاسی ایوانوں میں حاوی تھے ۔ مغربی بنگال میں 34 سالہ غیر متزلزل حکمرانی کا قلعہ 2011 ء میں منہدم ہوگیا ۔ 2018 ء میں بی جے پی نے تریپورہ کے بائیں بازو جماعتوں کے مضبوط قلعہ پر قبضہ کرلیا ۔ آخری قلعہ کیرالا بھی کمیونسٹ جماعتوں کے ہاتھوں سے نکل گیا ۔ 2016 ء سے پنارانی وجین کی قیادت میں ایل ڈی ایف کی حکمرانی بائیں بازو جماعتوں کیلئے آخری پناہ گاہ بنی ہوئی تھیں ۔ تاہم 2026 ء کے اسمبلی انتخابات کے نتائج نے ان تمام امیدوں پر پانی پھیردیا ۔ /4 مئی کو جاری ہوئے نتائج میں کانگریس کے زیرقیادت یو ڈی ایف نے واضح برتری حاصل کرلی ہے ۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق انقلابی نظریات کو بدلتے ہوئے معاشی اور سماجی تناظر میں ہم آہنگ نہ کرپانا اور نوجوان نسل سے کٹ جانا اس زوال کی بڑی وجوہات ہیں جو سرخ پرچم کبھی سماجی انصاف اور کسانوں کیلئے امید کی کرن تھی وہ انتخابی نقشے پر سمٹتی ہوئی نظر آرہی ہے ۔ یہ تاریخی شکست نہ صرف کیرالا بلکہ پورے ملک میں بائیں بازو جماعتوں کی سیاست کیلئے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ کیا کمیونسٹ جماعتیں دوبارہ اپنی جڑیں مضبوط کرپائیںگی یا یہ ایک عہد کا مکمل خاتمہ ہے ۔ ؟2/y